(ملفوظ 218)ابن الوقت بننے کی ضرورت ہے :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس کا پتہ نہیں چلتا کہ مجھ کو مخلوق سے وحشت کیوں فرمایا کہ اس کی تحقیق اورمعلومکرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ابن الوقت ہونا چاہئے اگرمعلوم ہوجاوے اس پرراضی رہے اگرمعلوم نہ ہو اس پرراضی رہے ۔
چونکہ برمیخت بہ بندوبستہ باش چوں کشاید چا بک وبرجستہ باش
( جب تجھ کو باندھ دیں توبندھے رہو، اور جب کھول دیں تو ( تعمیل حکم کیلئے ) چست وچالاک رہو غرض راضی برضارہو۔ )
مبتدی کو ان تحقیقات اورفضول میں پڑنا ہی نہیں چاہئے اس سے تشویش ہوتی ہے اور تشویش سے مبتدی کوسخت نقصان پہنچتا ہے اس کو ضرورت ہے یکسوئی کی پھرمزاحا فرمایا پھرچاہے پاس ایک سوئی نہ ہو البتہ منتہی کوان چیزوں سے نقصان نہیں پہنچتا منتہی ان چیزوں پرخود غالب ہوتا ہے اس لئے کہ وہ ابوالوقت ہوتا ہے ۔