ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل دیہات میں جمعہ کرنے اورکرانے کا لوگوں میں بڑا زور شور ہے حالانکہ امام صاحب کے نزدیک گاؤں میں جمعہ جائزنہیں گاؤں میں جمعہ پڑھ کرظہر ذمہ میں باقی رہتا ہے مگر کچھ پرواہ نہیں احکام کا اتباع تھوڑا ہی مقصود ہے اپنے جی چاہے کا اتباع کرتے ہیں دین تھوڑا ہی مقصود ہے نظر تواس پرہے کہ کوئی ان سے یہ سوال کرے کہ آج کی نماز ظہر کی تم نے نہیں پڑھی تواسکا کیا جواب ، جمعہ پڑھنے سے جہاں پرجمعہ صحیح نہ ہو ظہر سرسے تھوڑا ہی اترسکتا ہے ایک شخص مجھ سے کہنے لگے کہ گاؤں میں جمعہ کیون نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ میں نے کہا کہ بمبئی میں حج کیوں نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ بس گم ہوگئے پھر کچھ نہیں بولے اپنے ہی اعتراض کا جواب لینا آتا ہے دوسرے کا بھی توجواب دینا چاہئے ۔
