ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انبیاء کو کیا تھوڑا ستایا بدفہموں نے مگر ان حضرات کی کیا شان تھی اللہ اکبر کہاذیتیں بھی سہیں تکالیف بھی برداشت کیں مگر حق تعالی سے تسخیر وغیرہ کی تدبیرکی بھی درخواست نہیں کی کیا ٹھکانہ ہے اس ظرف کا یہ ان ہی حضرات کی شان تھی اور کس کویہ شایان ہوسکتاہے آج کل تسخیرکے عمل مشائخ پڑھتے ہیں یہ تو اچھی خاصی مخلوق پرستی ہے اور اگر زیادہ نظر عمیق سے دیکھا جائے تو اپنی پرستش کرانا مقصود ہےجوشان عبد یت کے بلکل خلاف ہے انبیاء علیہم السلام کی سنت یہی ہے جس پران کا عمل تھا کہ واصبرعلی مااصابک ( جومشکل آوے اس پر صبر کرو) میں نے ایک مرتبہ طالب علمی کے زمانہ میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ سے عرض کیا کہ حضرت کوئی ایسا عمل بھی ہے کہ جس سے موکل تابع ہوجائیں فرمایا کہ عمل توہے مگرکیا دنیا میں عبد بننے کےلئے آئے ہو یا خدا بننے کے لئے اس روز سے طبیعت میں ان عملیات سے اس قدر انقباض پیداہوگیا کہ ایسی باتوں کے ذکر سے بھی طبیعت مکدرہوتی ہے چنانچہ یہاں بھی بعضے لوگ آتے ہیں اور مہمل گفتگوئیں کرتے ہیں جس سے مجھ کو اذیت پہنچتی ہے اس کے جواب میں مجھ کوبھی مہمل گفتگو کو حق ہے مگریہ خود ایک مستقل فن ہے جومجھ کو نہیں آتا مجھ سے ایسے مہمل جملے بیان نہیں ہوسکتے ، اس لئے صاف صاف گفتگو کرتا ہوں جس سے میرا مقصود یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی صحیح خدمت ہوجائے اس لئے بات کو سمجھنا چاہتا ہوں مگرلوگوں کو اس فن میں ایک خاص ملکہ ہے نہ معلوم کس مدرسہ کی تعلیم ہے کہ صاف بات کوبھی الجھادینا ان کے بائیں ہاتھ کاکام ہے اس مہمل پرایک حکایت یاد آئی اور یہ حکایت حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ نے بیان فرمائی تھی کہ گنگوہ میں ایک جاہل مفتی تھے ان سے خود مولانا نے یا اور کسی نے (صحیح یاد نہیں رہا )
تنگ کرنے کو ایک مسئلہ پوچھا اور وہ تھے تو جاہل مگرجواب غلط نہ دیتے تھے گومہمل دیں ۔
وہ مسئلہ یہ تھا کہ حاملہ کا نکاح جائز ہے یا نہیں واقعی مسئلہ بھی بڑے بکھیڑے کا ہے کہ آیا وہ حمل حرام سے ہے یا حلال سے ہے اگرحلال سے ہے تو اس کا حکم دوسراہے اگرحرام سے ہے تو نکاح کون کرنا چاہتاہے آیا وہی جس کا حمل ہے یا اورکوئی دوسرا شخص ، غرضیکہ بڑا قصہ ہے اور ہرصورت کا الگ الگ حکم ہے انہوں نے عجیب جواب دیا کہ یہ نکاح کرنا ایسا ہے کہ کیسا گھیرا کہا گھیرا یہ ہی گھیرا اس گھیرے میں ایسی پناہ لی کہ ہاتھ نہ آئے سائل ہی خاموش ہوگیا ایسا گھیرادیا ۔
