( ملفوظ 397)انسان کی خواہش

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان بھی عجیب چیز ہے ـ اس کو ایک حالت پر چین نہیں چاہتا یہ ہے کہ جو میرا جی چاہے وہ ہوتا رہے ـ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا جی ہاں باوجودیکہ ہر بات اس کے خیال کے موافق نہیں ہوتی پھر جو کچھ کرتا ہے خیال ہی کے تابع ہو کر کرتا ہے اور تمام عالم اسی خیال پر چل رہا ہے ـ اتنی بڑی مؤثر چیز اور نظر تک نہیں آتی ـ جیسے گھڑی کی بال کمانی کہ بالکل باریک مگر تمام پرزوں کو نچا رکھا ہے مولانا فرماتے ہیں ـ
نیست وش باشد خیال اندر جہاں تو جہا نے بر خیا لے بیں رواں
کہ خیال آسیا و باغ وراغ گہ خیال میغ و ماغ و تیغ ولاغ