ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان کو مایوس نہ ہونا چاہئے حق تعالی سے اچھی امید رکھنی چاہئے وہ بندہ کے ظن کے ساتھ ہیں جیسا بندہ کے ساتھ گمان رکھتا ہے ویساہی معاملہ اس کے ساتھ فرماتے ہیں بڑی رحیم کریم ذات ہے مگر شرط ہے کہ طلب ہو اور کام میں لگارہے جو بھی ہوسکے کرتا رہے پھروہ اپنے بندے کیساتھ رحمت اور فضل ہی کا معاملہ فرماتے ہیں وہ کسی کی محنت اور طلب کو رائیگاں یا فراموش نہیں فرماتے ایک شخص کا مقولہ مکھ کو پسند آیا کہ کئے جاؤ اورلئے جاو واقعی ایسی ہی ذات ہے اس قائل نے بہت بڑے اور اہم مضمون کو دولفظوں میں بیان کردیا ہاں لگا رہنا شرط ہے اور ایک یہ ضروری امرہے کہ ماضی اور مستقبل کی فکر میں نہ پڑے اس سے بھی انسان بڑی دولت سے محروم رہتا ہے اور یہ بھی توماسواللہ ہی کی مشغولی ہے خلاصہ میرے بیان کا یہ ہے کہ قصد سے ماضی اور مستقبل کے مراقبہ کی ضرورت نہیں ۔ اگر بدون قصد خیال آجائے توماضی کی کوتا ہیون پرتوبہ استغفار کرلیا کرے بس کافی پچھلے معاصی کا کاوش کے ساتھ استحضار بھی کبھی حجاب بن کر خسران کا سبب ہوجاتا ہے اور آئندہ کیلئے تجویزات کی ضرورت یہ بھی ضرررساں ہے نہ اس کی ضرورت کہ میں پہلے کیا تھا اور اب ہوگیا اورمیں کچھ ہوا یا نہیں کن جھگڑوں میں وقت ضائع کیا کام میں لگو ان فضولیات کی چھوڑو ۔ کسی حالت میں بھی مایوس نہ ہوتو وہ تو دربار ہی عجیب ہے کوئی شخص کتنا ہی گنہگار کیون نہ ہو ایک لمحہ ایک منٹ میں کا یا پلیٹ جاتی ہے بشرطیکہ خلوص کے ساتھ اس طرف متوجہ ہوکر رجوع کرے اور آئندہ کیلئے عزم استقلال کا کرے پھر تو جس نے کبھی ساری عمر اللہ کا نام نہ لیا ہو ا اور اپنی تمام عمر کا حصہ معاصی اور لہو ولعب مین بردباد کیا ہوا اس کیلئے بھی رحمت کا دروازہ کھلا ہوا ہے اسی کو فرماتے ہیں
باز آباز ہرآنچہ ہستی بازآ ٭ گرکافر وگبروبت پرستی باز آ
ایں درگہ مادرگہ نومیدی نیست ٭ صدر ۔ باراگر تو یہ شکستی باز آ
( توجوکچھ بھی ہے ) حتی کہ ) اگرکافر ومشرک اور بے دین بھی پھر بھی توبہ کرلے ( توہم قبول کہرلٰں گے کیونکہ ) یہ ہماری درگاہ ہے جہاں مایوسی نہیں ہے اگر سوبار توبہ کرلے
پھرتوڑدی ہو۔ اور پھر توبہ کرلو۔ تب بھی قبول ہے )۔
جوبندے کے لیے مشکل ہے وہ خدا کے لیے آسان ہے ایسی ذات سے کون مایوس ہوسکتا ہے اسی کوفرماتے ہیں
تو مگو مار ابداں شہ بار نیست ٭ باکریماں کارہا دشوار نیست
( تو یہ مت کہ کہ ہماری رسائی اس دوبار تک نہیں ہے کیونکہ کریموں کیلئے کوئی کام مشکل نہیں ہے وہ اپنے کرم سے تم کو خود اپنی طرف کھینچ لیں گے ۔ 12)
رحمت حق ہروقت اپنے بندوں کے لئے بخشش کا بہانہ ڈھونڈتی ہے یحیی بن اکثم جوامام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے شیخ بھی ہیں ان وفات کے بعد کسی نے ان کو خواب میں دیکھا پوچھا حق تعالٰی کے ساتھ کیا معاملہ ہوا فرمایا مجھ کو حاضر کرکے ارشاد ہوا کہ ارے بڑے بڑے بوڑھے تونے فلاں عمل کیا فلاں معاملہ کیا اس کا کیا جواب ہے میں خاموش رہا ارشاد ہوا کہ بولتا کیوں نہیں میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کیا جواب دوں سوچ رہاہوں ارشاد ہوا کہ کیا سوچ رہا ہے میں نے عرض کیا میں نے حدیث کی ورایت کی ہے ان اللہ یستحی من ذی الشیبۃ المسلم کہ حق تعالٰ بوڑھے مسلمان سے شرماتے ہیں لیکن یہاں اس کا عکس دیکھ رہا ہوں اب حیران ہوں اگر حدیث صحیح ہے تو یہ کیا قصہ ہے ارشاد ہوا کہ حدیث صحیح ہے جاؤ اعمال سے قطع نظر کرکے آج صرف پڑھاپے پررحم کرکے بخشش کئے دیتے ہیں شیخ سعدی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں
ولم مید ہدوقت وقت ایں امید ٭ کہ حق شرم داروز موئے سفید
( میرا دل ہروقت یہ امید رکھتا ہے کہ حق تعالیٰ بوڑھے آدمی کا لحاظ فرماتے ہیں ۔ 12)
اورایک حکایت ہے ایک نوجوان کی اگر ظاہر نظر سے دیکھا جائے توایک مسخرہ پن سا معلوم ہوتا ہے مگرواقع میں منشا اس کا خشیت تھا اس شخص کو اپنے اعمال بد کی وجہ سے خوف تھا جب انتقال ہونے لگا تو اپنے ایک دوست کو وصیت کی کہ غسل کے بعد میری داڑھی پرتھوڑا سا آٹا مل دینا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا کسی نے خواب میں دیکھا پوچھا اس نے بیان کیا کہ نکیرین نے حق تعالٰ کے حکم سے یہ سوال بھی کیا کہ ایسی وصیت کی کیا وجہ تھی عرض کیا کوئی نیک عمل میرے پاس نہ تھا مجھ کو خوف ہوا اور حدیث میں نے علماء سے سنی تھی کہ اللہ تعالٰی بوڑھے مسلمان سے حیا کرتے ہیں میں بوڑھا بھی نہ تھا اور بوڑھا بننا اختیاری بھی نہ تھا اسلئے میں نے وصیت کی تھی کہ میری داڑھی کوآٹا مل دینا تاکہ بوڑھوں کی ساتھ تشبہ توہوجائے اور یہ اختیاری تھا حکم ہوا کہ جاؤ اسی وجہ اسی وجہ سے بخشش کی جاتی ہے یہ عمل تمہارا پسند آیا دیکھئے رحمت حق بخشش کے بہانے ڈھونڈتی ہے اسی کو فرماتے ہیں
من نکر دم خلق تاسود ے کنم ٭ بلکہ تابر بندگان جودے کنم
( میں نے اپنے کسی نفع کے لیے مخلوق کو پیدا نہیں کیا بلکہ بندوں پر بخشش اور کرم کرنے کیلئے پیدا کیا ہے ۔ 12)
جناب رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا ہے کیا نعوذ باللہ وہ جھوٹ ہوسکتا ہے فی الحقیقت حق تعالیٰ ادنی نہانہ سے بندوں پررحم فرمادیتے ہیں ۔ دیکھ لیجئے کہ بخاری کے شیخ اتنے بڑے شخص مگر حدیث دانی حدیث خوانی حدیث رانی سب ختم ہوگئی اگر بخشے گئے تو داڑھی کے سفید ہونے پر اور نجات توچھوٹی بات پر بھی ہوجاتی ہے مگر چھوٹی بات مواخذہ نہیں ہوتا ۔ یہ بالکل غلط مشہور ہے کہ مواخذہ بھی چھوٹی سی بات پرہوجاتاہے مواخذہ تو بڑی ہی بات پرفرماتے ہیں اب رہایہ کہ کوئی بڑی کو چھوٹی خیال کرے اس کا کسی کے پاس کیا علاج ہے جیسے ایک رئیس خاں صاحب تھے انہوں نے حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا تھا کہ حضرت وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کونسی ہیں جن سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے حضرت نے فرمایا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے انبہٹے والوں کا نکاح ٹوٹ جاتا ہوگا ۔ عرض کیا کہ حضرت یہ ہی کفرشرک کی باتیں فرمایا کہ خان صاحب یہ کفر وشرک تو چھوٹی باتیں ہیں اور ان سے بڑی کونسی ہونگی ۔ بس اسی طرح اگرکوئی بڑی کو چھوٹی سمجھ لے تو اس کا کیا علاج ایک بزرگ بہت بھولے تھے ایک باورچی بہت منہ چڑھا تھا اور مولوی صاحب اس کے معتقد تھے فرمایا کرتے تھے کہ اس میں سب محاسن ہیں صرف ایک ذراسی کسرہے کہ نماز نہیں پڑھتا اب بتلائیے اتنی بڑی کسر کو مولوی صاحب ذراسی کسر بتاتے ہیں ۔
