ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ماموں امداد علی صاحب حکیمانہ دماغ رکھتے تھے گو مسلک میں ان سے ہمارا اختلاف تھا مگر بعضی باتیں بڑے کام کی فرمایا کرتے تھے چنانچہ ایک بار یہ فرمایا کہ میاں دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت کہیں اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا واقع بڑے ہی کام کی بات ہے لوگ دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت کہیں اپنی فکر نہیں کرتے جس سے دوسروں کی کوئی خفیف سی مصلحت تو محفوظ ہوجاتی ہے مگر اپنا غرور عظیم ہوجاتا ہے اور ممدوح ظریف بھی بہت تھے ایک مرتبہ روڑ کی قیام تھا بارش ہوکر ختم ہوئی تھی کیچڑ ہو رہی ہے اس طرح نہیں چلنا چاہئے اندیشہ گرجانے کا ہے وہ صاف فرماتے ہیں کہ میں گرنہیں سکتا اقلیدس کی قاعدہ سے چلتا شکل بنی روڑ کی ہی کلیہ بھی واقعہ ہے کہ ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کیوں صاحب کونسی شکل بنی روڑ کی ہی کلیہ بھی واقعہ ہے کہ ایک مولوی صاحب باہر سے مہمان آئے اور ایک مولوی صاحب وہاں ہی مقیم تھے اور دونوں خوب موٹے تھے دونوں کی توند نکلی ہوئی تھی ملاقات کے وقت دونوں نے معانقہ کیا تو ماموں صاحب فرماتے ہیں کہ مولانا یہ تومعانقہ نہیں ہوا مباطنہ ہوگیا یعنی پیٹ سے پیٹ مل گئے ۔
