( ملقب نہ اصلاح الدرس ) ایک صاحب نے اپنے صاحبزادہ کی تعلیم کے متعلق حضرت والا سے مشورہ چاہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مدرس ہونے کا اہل ہوجائے تو اس کی کیا صورت اختیار کی جائے فرمایا فنون کی کتا بیں بھی پوری کرانا چاہئے اگران میں کوتاہی رہی تو استعداد کافی نہ پیدا ہوگی عرض کیا کہ اس کا خیال یہ ہے کہ امساں دورہ یہ طرزتو اچھا نہیں معلوم ہوتا بلکہ کچھ اسباق فنون کے بھی ہوجائیں اور دورہ کا بھی سلسلہ رہے یہ اچھا ہے ۔
عرض کیا کہ میرے رائے یہ ہے کہ امسال فن ہی کی کتابیں پوری ہوجائیں فرمایا کہ اس کو بھی جی گورا نہیں کرتا کہ حدیث بالکل ہی رہ جائے اگر دونوں ساتھ ساتھ ہیں ۔ یہ طریق اچھا معلوم ہوتا ہے اپنے بزرگوں کا ہمیشہ یہ ہی طرز رہا ہے یہ ہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حدیث اور فن دونوں ساتھ ساتھ ہوں ان صاحب نے کچھ خاموش رہنے کے بعد پھر اس ہی مشورہ کا اعادہ کیا فرمایا کہ آپ ایک ہی بات کو کھرل نہ کیا کیجئے میری طبیعت الجھتی ہے آپ ایک ہی بات کے پیچھے پڑجاتے ہیں یہ برا ہے آپ کو اس کا خیال رکھنا چاہئے اور اس طرز کو بالکل چھوڑ دیجئے اس سے دوسرے کا وقت فضول خراب ہوتا ہے آپ میرا وقت بھی فضول باتوں میں خراب کررہے ہیں اور اپنا بھی ایک بات کے پیچھے پڑجانا کون عقل کی بات ہے ایک بات شروع ہوئی جواب دیدیا گیا بات ختم ہوئی آپ ہیں کہ بار بار اسی کا اعادہ کررہے ہیں آخر اس سے آپ کا مقصود کیا ہے کیا یہ ہی ایک کام رہ گیا ہے کہ بیٹھے ہوئے کھرل کئے جائیں آپ کو دوسرے پربار ہونے کا مطلق خیال نہیں اور یہ بھی آپ کی خاطر سے بتلادیا ایک مرتبہ دو مرتبہ نہیں تین مرتبہ بتلادیا مشورہ دیدیا گیا دوسرے کو تو یہ بھی نہ بتلاتا کیو نکہ آج کل کسی کو مشورہ دینا میرے مذاق کے خلاف ہے آپ ساری دنیا کے اقوال پیش کریں اور میں ان کے متعلق تحقیقات کروں یہ کس قدر تکلیف مالایطاق ہے اگر مجھ کو اس پڑھنے پڑھانے سے دلچسپی ہوتی تو اب بھی خدا کا فضل ہے کہ اگر کتا ب لے کر بیٹھو تو ٹوٹا پھوٹا پڑھا سکتا ہوں مگر پھر بھی چھوڑ دینا اس کی کافی دلیل ہے کہ دلچسپی نہیں رہی اس لئے ایسی کاوش سے گرانی ہوتی ہے اور جس چیز دوسرے کو گرانی ہو اس سے احتیاط رکھنا چاہئے دوسرے یہ تو میری قدرت میں نہیں کہ ساری دنیا کے اقوال کی تو جیہ کیا کروں اور ہرایک کے جدا جدا جوابات دیا کروں یہ تو ایک سلسلہ ہوجاوے گا جو کبھی ختم ہی نہیں ہوسکتا تیسرے اس حالت میں مشورہ لینے کا حاصل یہ ہوگا کہ رائے میری اور قبضہ ان کا یعنی ناظمان مدرسہ کا اور لا متناہی عمل فلاں صاحب کا یعنی طالب علم صاحب کا یہ جوڑ کیسے لگے گا پس اسلم یہی ہے چھوڑیئے ان جھگڑوں کو ہورہے گا جو ہونا ہوگا آپ کس غم میں پڑے اساتذہ موجود ہیں اور صاحب زادے خود بھی رائے رکھتے ہیں جیسا مناسب ہوگا آپ کرلیں گے ، فرمایا کہ فلاں مدرسہ کے متعلق بہت عرصہ سے درس و تدریس کے بارے میں مختلف مشورہ دے رہا ہوں مگر کوئی نہیں سنتا ان کے استحسان کے متعلق تو یہ جواب کہ بالکل ٹھیک۔ مگر عمل ندارد اب کیا جی چاہئے مشورہ دینے کو جب تجربہ سے یہ معلوم ہوگیا کہ اہل مدارس وہی کرتے ہیں جوان کے جی میں آتا ہے د ماغ سوزی کرو ایک مفید بات بتلاؤ اور عمل اس پرنہ ہو یہ بھی میرا تبرع اور احسان تھا کہ میں نے آپ کورائے بھی دیدی اور وہ بھی دیدی اور وہ بھی کئی بارورنہ جس بات پر عمل کرنے کے اور کچھ نہیں اہل علم کا طبقہ اکثر لوگوں کو رسم پرست بتلاتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ علماء سب سے زیادہ رسم پرست ہیں کہ پرانے معمولات کو نہیں چھوڑتے گو ضرورت اور مصلحت واقعیہ کے خلاف ہی ہو ۔ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے فلاں مدرسہ کے متعلق ایک مشورہ فرمایا تھا کہ فلاں فلاں کتابیں درس سے خارج کردو مگر اس پرکسی نے بھی عمل نہیں کیا حالانکہ سب جان نثار ہی تھے مگر کچھ بھی حضرت کے مشورہ کی پرواہ نہیں کی گئی تھی یہ قدرہے بزرگوں کے مشوروں کی ۔ ان اہل مدارس کی عموما یہ حالت ہے کہ جودل میں ٹھان لی وہی کریں گے کسی کی نہیں سنی گے چنانچہ میری رائے امتحان کے بارہ میں یہ ہے کہ امتحان تقریری ہونا چاہئے تقریرمیں بہت جلد قلعی کھل جاتی ہے اور اگرکسی مصلحت سے تحریری بھی ہوتو اس کی لطیف صورت یہ ہے کہ طالب علم کو کتاب دے دی جائے اوراس کے شروح اور حواشی جومانگے سب دیدئیے جائیں اور کہ دیا جائے کہ فلاں مقام حل کرکے لاؤ مگر کسی سے مدد مت لو کیونکہ مقصود تو یہ دیکھنا ہے کہ کتا ب جو پڑھی ہے اس کو سمجھ بھی گئے یہ دیکھنا نہیں کہ یہ کتا ب کا حافظ بھی ہے یا نہیں اس میں طلباء کو بھی سہولت اور امتحان کا مقصود بھی حاصل اور متعارف طریق میں پوری مصیبت ہے چنانچہ میں جس زمانہ میں دیوبند پڑھتا تھا امتحان کی تیاری تمام تمام شب جاگتے گذر جاتی نیندخراب تندرستی خراب جب تک ساری کتب حفظ نہ ہو امتحان دے ہی نہیں سکتے ان تجارت کی بناء پر میں جس زمانہ میں کانپور تھا ۔ امتحان کے متعلق نہایت سہل قواعد وضوابط مقررکردیئے تھے اس سے اعلیٰ درجہ کی قابلیت حاصل ہوتی ہے اب اپنا اختیار نہیں مشورہ ہی کیا تیرچلائے گا چنانچہ مدارس میں جو آج کل امتحان کا طرز ہے کہ ساری کتاب محفوظ ہو تب امتحان دے سکتے ہیں اس کے متعلق میں نے اہل مدراس کو رائے دی مگر ایک نے بھی نہیں سنی ایک صاحب نے میرے یہ اصول سن کر مجھ سے کہا کہ انگریزی مدارس میں بھی یہ ہی دستور ہے میں نے کہا کہ انگریزوں نے ہمارے یہاں کی مفید باتیں بعد تجربوں کے ہم ہی سے تولی ہیں ایک طریقہ میں نے یہ جاری کیا تھا کہ ختم سال پر جہاں سے کتاب چھوڑی ہے آئندہ شروع سال میں وہاں ہی سے اسباق تجویز کئے جائیں ان کے تعارضات رفع کئے جائیں بس ایسا ہوتا ہے کہ جیسے جمعرات کا سبق جہاں سے چھوڑا تھا ہفتہ کے روز وہاں ہی سے شروع کرادیا گیا ایک نفع اس میں یہ تھا کہ طلبہ منتشر نہ ہوتے تھے سبق کے سلسلہ کی وجہ سے پھرضرور آتے تھے اور اگر کوئی نیاطالب علم آگیا تو اس کی وجہ جس درجہ کی قابلیت ہوئی اس کو ان کتابوں میں شریک کردیا جیسا وسط سال میں آنے والوں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیاجاتا تھا اوراس طرز میں بھگدڑ بھی نہ پڑتی تھی کہ کسی طرح کتاب ختم کراؤ چاہئےطالب علم کمبخت سمجھے یا نہ سمجھے اور جس کتاب کو ختم نہ کراسکے بس وہ رہ گئی اس کوچھوڑ دیتے ہیں یہ مفاسد ہیں اس رسم متعارف میں ۔ اب تو یہ ہے کہ طالب علم اپنی ذہانت اورمحنت سے کسی قابل ہوجائے یا نہ ہوجائے ورنہ مدارس کی طرف سے نہ کوئی درس کے اصول ہیں نہ قواعد بہت ہی خراب حالت ہے ۔ بھلا یہ لوگ جن سے ایک مدرسہ کا انتظام نہیں ہوسکتا سلطنت کا کیا انتظام کرسکتے ہیں یہ تو ناظمیں کی حالت ہے پھر آگے طلباء بھی آج کل ایسے ہی ہیں وہ بھی علوم کی طرف متوجہ نہیں ضابطہ پری کرتے ہیں بڑی معراج اس کوسمجھتے ہیں کہ ایک بڑا سا پگڑ بندھ جائے اور ایک بڑا سا پروانہ چھپا ہوا مل جائے پس ہوگئے مولوی ، مولوی ۔ پھر فرمایا کہ رسم پرستی کو وجہ سے یہ جمود ہے اوربے حد جمود ہے اور اگرترقی کی طرف چلے تو خلافت میں شریک ہوگئے کا نگریس میں شریک ہوگئے علوم میں ترقی نہں کرتے جہل میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اور اگر اس سے بھی ترقی کی تو پھران کی معراج ترقی جیل کی طرف ہوتی ہے وہاں پرپہنچ کر بھی بڑے بڑے القاب مل جاتے ہیں ۔ میں سچ عرض کرتا کہ جواہل اللہ کے پاس نہیں رہے ان کے قلب حقیقت کے ادراک سے بلکل مردہ ہیں اور اس مردہ ہونے کے خاص آثار ہیں ایک اثر اس وقت بیان کرتا ہون جن کا یہ واقعہ ہے میں ان کا نام نہیں بتاؤں گا ۔ مگر بہت بڑے عالم ہیں ان کا مقولہ عرض کرتا ہوں جس وقت حضرت محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ دیوبندی حج کو تشریف لے گئے تو میرے متعلق یہ مشہور کیا گیا بعض حاسدوں کی طرف سے کہ اس نے یعنی میں نے حدیث شریف کا دور شروع کرادیا ہے تو وہ عالم صاحب فرماتے ہیں کہ کیا اس کا انتظام ہی تھا کہ مولانا نعوذ باللہ یہاں سے شروع رخصت ہوں تو ہماری دکان چمکے یہ علماء ہیں ۔ اگر مولانا ہی کے سامنے شروع کرادیتا تو کون سا گناہ تھا ۔ بلکہ حضرت مولانا ہی سب سے زیادہ خوش ہوتے تو حضرت کے رہتے ہوئے کون مانع تھا ۔ پس اہسے لوگوں میں اس کی کمی ہے کہ اہل اللہ کی جوتیاں سیدھی نہیں کیں بلکہ ترقی کرکے کہتا ہوں کہ جوتیاں نہیں کھائیں کیونکہ محض سیدھی سے کام نہیں چلتا ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ میں نے کسی کی جوتیاں سیدھی نہیں کیں فرمایا اللہ فضل ہے کہ کسی کو بغیراس کے بھی علاہ فرمادیں مگر اپنے بزرگوں کو ہمیشہ دل س غلام رہا اور غلام سے بڑھ کراپنے کو سمجھا اور خدمت ظاہری اس وجہ سے نہیں کی کہ مین سمجھتا تھا کہ میرا خدمت کرنا اپنے بزرگوں کو تکلیف کا سبب ہوگا وہ گوارا نہ کریں گے ان کو ناگوارا نہ کریں گے ان کو ناگوار ہوگا ۔ باقی ان چیزوں میں قیاس نہیں چلتا ۔ ( تمت مقالہ اصلاح الدرس )
