ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اصلاح کا کام بہت ٹیڑھا ہے خود کوفت اٹھاؤ اوپر سے بدنام ہومیں اب اردہ کرچکاہوں کہ اس کام کو اس طور پرکہ خود احتساب کروں انشاءاللہ تعالٰے چھوڑدوں گا سو دفعہ کسی کی خوشی پڑے خوشامد کرے کوئی بات بتلادی ورنہ خود محاسبہ یا مواخذہ نہ کروں گا میرا جو مقصود تھا کہ طریق کا اظہار ہوجائے وہ بحمداللہ پورا ہوگیا سب کوطریق کی حقیقت معلوم ہوگئی اس کی جوگول مول حالت تھی وہ ظاہر ہوگئی اب بے غبار ہے عوام تک کومعلوم ہوگیا اور جہاں کچھ تھا بھی بس صرف یہ تھا کہ اور راد کو اور کیفیات کو طریق سمجھا جاتا تھا اس کا ثمرہ اعمال تو بلکل حذف ہی کردئے گئے تھے صاف کہتے ہیں کہ اعمال کا کیا ہے یہ تو کتابوں میں ہیں میں نے کہا کہ اوراد بھی تو کتا بوں میں ہیں تو ان ہی میں کیا رکھا ہے ۔
