( ملفوظ 439 )اصلاح معاشرت کا بحران :

ایک نووارد صاحب نے جن کو اجازت دینے کے ساتھ یہ لکھ دیا گیا تھا کہ آتے ہی خط دکھلا دیں پھر بھی خط نہ دکھلایا حضرت والا نے ان سے مواخذہ فرمایا ان صاحب نے ایک صاحب کے واسطے سے معافی چاہی حضرت والا نے فرمایا کہ معافی تو اسی وقت ہو جاتی ہے مگر اس کا جو اثر ہوتا ہے وہ تو رہتا ہے اور اس کا ازالہ سلیقہ ہی سے ہو سکتا ہے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ مکاتبت مخاطبت کی اجازت نہیں پھر سلیقہ کس طرح حاصل ہو سکتا ہے فرمایا کہ یہ تو مخاطبت مکاتبت پر موقوف نہیں ہر وقت کے اٹھنے بیٹھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کون بات پسند ہے کون ناپسند ۔
مگر آج کل اصلاح معاشرت کو دین کی فہرست ہی سے خارج کر رکھا ہے اس کی فکر ہی نہیں کہ ہماری اس حرکت سے دوسرے پر کیا اثر ہو گا ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ یہ صاحب کم سنتے ہیں فرمایا کہ اگر ان میں اہتمام ہوتا تو اس کی بھی اطلاع کرتے کہ میں کم سنتا ہوں میں ان کو مشورہ دیتا کہ تم قریب بیٹھا کرو تا کہ میری باتیں سن سکو ۔ مگر جب اس قدر لاپرواہی ہے تو ایک شخص ہی کہاں تک ان جزئیات کا احاطہ کر سکتا ہے ۔