( ملفوظ 259)اصلاح ضروری ہے بیعت ضروری نہیں

ایک نو وارد صاحب نے حضرت والا سے بیعت کی درخواست کی مگر حضرت والا کہ دریافت فرمانے پر بھی نہ اپنا پورا تعارف کرایا ـ نہ ضروری سوالات جا جواب دیا ـ اس پر حضور والا نے مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جس چیز کو انسان سمجھے گا نہیں ـ اس کی طلب کی کیا خاک کرے گا ـ سب سے پہلے طریق کی حقیقت کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے تب آگے بڑھے میرے یہاں مرید ہونے میں اس واسطے دیر لگتی ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ پہلے مطلوب کی حقیقت سے باخبر ہو جائے ـ حقیقت سمجھ لینے کے بعد پھر مریدی کا مضائقہ نہیں مگر لوگ اسکو ٹالنا سمجھتے ہیں ـ اور بدون کسی چیز کے سمجھے ہوئے اور حقیقت معلوم کئے ہوئے اس میں قدم رکھنا نہایت غلطی ہے محض مرید ہونا کافی نہیں بلکہ اس کی تو ضرورت ہی نہیں ـ اصل ضرورت تو کام کرنے کی ہے اور وہ بلا مرید ہوئے بھی ہو سکتا ہے اور اس میں وہی نفع ہوتا ہے ـ جو مرید ہوجانے کے بعد کام کرنے سے ہوتا ہے ـ معلوم نہیں لوگ بیعت پر اسقدر اصرار کیوں کرتے ہیں یہ تو محض رسم ہی رسم ہے ـ اصل چیز کام کرنا ہے اور اگر محض برکت سمجھتے ہیں تو قرآن پاک کی تلاوت میں نفلیں پڑھنے میں اس سے زیادہ برکت ہے اس کو اختیار کریں یہاں پر تو کام کرنے والوں کی کھیت ہے ویسے ہی جمع کر کے فوج تھوڑا ہی بھرتی کرنا ہے یا محض نام کرنا تھوڑا ہی مقصود ہے کہ ہمارے اسقدر مرید ہیں اور اگر کسی کو محض ہو یہ ہی مقصود ہے تو ایسے پیر بھی بکثرت ہیں ـ انکے یہاں رجسٹر بنے ہوئے ہیں ـ مریدوں کے نام مع نشان درج کئے جاتے ہیں ـ جاؤ وہاں کسی قسم کی روک ٹوک بھی نہیں ـ خواہ مرید کے کیسے ہی افعال ہوں ـ صرف اس کی ضرورت ہے کہ ششماہی یا سالانہ فیس ادا کردو اور جب تک پیر کے پاس رہو دونوں وقت لنگر میں کھانا کھاؤ اور یہ لنگربازی بھی ایسی جگہ ہوتی ہے ـ جہاں اس قسم کی رسمی آمدنی ہو ـ ہم بیچارے غریب آدمی ہمارے یہاں رسمی آمدنی کہاں ـ ہم کو تو اگر دیتا بھی ہے تو اس میں سوفی نکالی جاتی ہیں کوئی ہفتہ اس سے خالی جاتا ہوگا کہ ایک دو منی آڑو واپس نہ ہوتا ہو ـ میں اپنے آپ کو مستثنی نہیں کہتا مگر ہاں اتنا ضرور ہے کہ بے طریقہ اور بے اصول اگر کوئی دیتا ہے لیتے ہوئے غیرت آتی ہے ـ اگر کسی کو دینا ہو طریقہ سے دے لینے سے انکار نہیں یہ ہیں وہ باتیں جن کی وجہ سے میں سخت مشہور ہوں ـ اور بدنام ہوں ـ خیر بدنام کیا کریں میری جوتی سے کیا میں نہیں سمجھتا کہ اس طرز معمول میں میری آمدنی کا نقصان ہے ـ میں کوئی دیوانہ تھوڑی ہی ہوں کہ میں اپنا نقصان چاہوں مگر لعنت ہے اس نفع پر کہ طالب تو جہل میں مبتلا رہے اور میں رقمیں اینٹھا کروں ـ میرے اس طرز سے میرے دو نقصان ہیں ـ ایک مال کا اور ایک جاہ کا ـ مال کا تو یہ نقصان کہ وہ لوگ پھر نہ دیں گے اور جاہ کا یہ نقصان کہ لوگ غیر معتقد ہو جائیں گے ـ مگر بلا سے غیر معتقد ہوجائیں ـ میں اپنے طرز کو نہیں بدل سکتا ـ اور متعارف اخلاقی مجھ سے نہیں اختیار کئے جاتے یہ طرز کسی کو نہ پسند ہے ـ یہاں نہ آوئے اور اگر آتا ہے تو جس طرح ہم کہیں گے چلنا پڑیگا ـ اتباع کرنا پڑیگا ـ لوگ چاہتے ہیں کہ مرید کر کے یونہی آزاد چھوڑ دو ـ جیسے ہندو سانڈھ چھوڑ دیتے ہیں ـ میں بد اخلاق ہوں ـ مگر دوسروں کے اخلاق کو درست کر دیتا ہوں ـ پھر اسکی رفتار سے گفتار سے نشست برخاست سے ہاتھ سے پاؤں سے زباں سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچ سکتی ـ ایک پکے اور سچے مسلمان کی جو شان ہوتی ہے الحمدللہ وہ اسکے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں ـ مگر آجکل لوگوں نے بزرگی کا انحصار صرف تسبیح میں نفلوں میں ٹخنوں سے اونچے پا جامہ میں گھٹنوں سے نیچے کرتہ میں کر رکھا ہے ـ خواہ کتنا ہی گندہ ہو جس کو ایک بزرگ فرماتے ہیں ـ
سبحہ برکیف توبہ برلب پر از ذوق گناہ معصیت را خندہ می آید بر استضفار ما
( ہاتھ میں تسبیح زبان سے توبہ توبہ ـ اور دل گناہ کے لطف سے بھرا ہوا ہو ـ تو گناہ کو بھی ہماری استغفار پر ہنسی آتی ہے ـ )
اور دوسرے بزرگ فرماتے ہیں ـ
از برون چوں گور کافر پر حلل واندروں قہر خدائے عزوجل
از برون طعنہ زنی بر بایزید وز درونت ننگ دارد یزید
ظاہری حالت تو ایسی ـ جیسے کافر کی گور پر پرتکلف غلاف ہوں ـ اور باطنی حالات ایسے جو خدائے عزوجل کے قہر کے موجب ہیں ـ ظاہری حالت تو ایسی کہ حضرت بایزید بسطامی پر بھی طعنہ کرتے ہو کہ وہ بھی ایسے نہ تھے جیسے ہم ہیں اور تمہارے باطنی حالات ایسے ہیں ـ یزید بھی شرما جاوے کہ اتنا شوقی تو میں بھی نہیں ـ
حضرت اصلاح تو اصلاح کے طریقہ سے ہی ہوتی ہے اب لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جو حساب ہم گھر سے لگا کر چلے ہیں ـ اس میں فرق نہ آئے ـ اسکا تو صاف مطلب یہ ہوا کہ کہ دوسرا ہمارے تابع رہے ـ ہم کسی کا اتباع نہ کرنا پڑے تو پھر گھر سے لانے کی تکلیف ہی کیوں گوارا فرمائی ـ گھر پر رہتے آزاد رہتے تو بلانے تو نہ گیا تھا کیا میرید ہونا کوئی پالا چھونا ہے ـ نام ہو جائے گا کہ ہم بھی مرید ہو گئے ـ اس سلسلہ میں بکثرت لوگ آتے ہیں خطوط بھی آتے ہیں مگر سب کے سب اس جہل عظیم میں مبتلا ہیں کہ مرید کرلو اور عجیب بات یہ ہے کہ اگر میں مقصود کا طریقہ بتلاتا ہوں تو اس میں بھی باتیں بنا کر اینچ پینچ لگا کر پھر نتیجہ میں وہی بیعت کرے ـ بیعت کوئی فرض ہے ـ واجب ہے جو اس قدر اصرار ہے ـ اسی وجہ سے میں نے اب یہ قید لگائی ہے کہ اگر یہاں آؤ تو مکاتبت مخاطبت بھی نہ کرو خاموش بیٹھے باتیں سنا کرو تاکہ طریق کی حقیقت تو تم کو معلوم ہو جائے مگر بعضے ذہین ہیں کہ خاموش بیٹھے رہنے کی شرط پر آتے ہیں مگر پھر گڑبڑ کرتے ہیں ـ میں تو کہا کرتا ہوں یا تو لوگوں میں فہم کا قہط ہے یا مجھ کو عقل کا ھیضہ مگر ہر حال میں قحط زدہ اور ہیضہ زدہ میں مناسبت نہیں ہو سکتی لہذا ایسوں سے کہہ دیتا ہوں کہ کہیں اور جا کر تعلق پیدا کر لو مجھ سے تم کو مناسبت نہیں اور یہ طریق ایسا نازک ہے کہ بلا مناسبت نفع نہیں ہو سکتا ـ ایسی کھلی حقیقت پر بھی اگر کوئی برا بھلا کہے تو کہا کرے مجھ سے کسی کی غلامی نہیں ہوتی اگر کسی کو مجھ سے تعلق رکھنا ہے تو اس کو اس کا مصداق بننا چاہیئے ـ
یا مکن با پیلبا ناں دوستی یا بنا کن خانہ برانداز پیل
یا مکش پر چہرہ نیل عاشقی یا فرد شو جامہ تقوی نہ نیل
( یا تو فیلبان سے دوستی مت کرو یا پھر ایسا بناؤ جس میں ہاتھی آسکے اور یا تو چہرہ پر عاشقی کی علامت مت ظاہر کرو ـ اور اگر کرتے ہو تو جامہ تقوی کو دریائے نیل میں دھولو کہ عاشقی کے ساتھ تقوی کہاں رہ سکتا ہے ـ