( ملفوظ 557 )اسلام تلوار سے نہیں پھیلا

فرمایا یہ اعتراض کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا ـ محض غلط ہے اس وجہ سے کہ اسلام میں اول جزیہ حکم ہے جب جزیہ قبول کر لیا اب تلوار مسلمان نہیں اٹھا سکتا ـ اور اس سے بھی قطع نظر کی جائے تو قابل غور ہے کہ اسلام نے مخالفین کے ہاتھ میں ایک بہت بڑی ڈھال دے رکھی ہے وہ یہ کہ جب کوئی کلمہ پڑھ لے فورا چھوڑ دو تو اس طرح پر ہر کافر وقت پر مسلمان کی تلوار کو بند کر سکتا ہے مثلا کسی کافر نے کسی مسلمان پر خوب ظلم کیا ہو ـ ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے ہوں اس کے اہل و عیال کو قتل کر ڈالا ہو غرض ہر طرح کا ظلم کیا ہو ـ اور باوجود ان مظالم کے پھر کون ایسا ہے کہ موقع ملے اور قدرت ہو اور بدلہ نہ لے ـ مگر اسلام میں ایسا حکم ہے کہ اگر اس شخص کا یا اس کے کسی یا رو مددگار کا اس پر قابو پڑ جائے اور وہ اس کا کام تمام کرنا چاہئے اور زبان سے کلمہ شریف پڑھ لے اور قرائن سے معلوم بھی ہو کہ دل سے نہیں پڑھا تب بھی حکم ہے کہ تلوار مت اٹھاؤ یہ کتنی بڑی ڈھال مخالف کے ہاتھ میں ہے پس جس مذہب کا یہ قانون ہو اس میں کیسے ممکن ہے کہ اسکی ترقی تلوار سے ہو سکے اب فرمائیے کہ اسلام بزور شمشیر کیونکر پھیلا ـ