ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک انگریز جج تھا ـ وہ انگریزی قانون اور اسلامی قانون کا موازنہ کیا کرتا تھا ـ اس کے یہاں ایک مقدمہ آیا ـ ایک شخص نے بیوی کو قتل کیا تھا ـ اور اس کے ایک سات سال کی بچی تھی ورثاء مقتول کا قصاص نہیں لینا چاہتے تھے اور قانون میں یہ معافی جائز نہ تھی ـ سزائے موت ضروری تھی ـ اس پر جج نے کہا کہ یہاں اسلامی قانون کی ضرورت ہے ـ یعنی معافی جائز ہونا چاہیئے ورنہ ماں تو یوں گئی اور باپ یوں گیا ـ تو اب اس کی پرورش کون کرے گا ـ مگر چونکہ قانون حکومت اس کے خلاف تھا ـ اس نے روئداد بدل دی اور اسکو رہا کر دیا ـ اسی موازنہ کے مناسب ایک اور انگریز کا قول یاد آیا ـ اس کے پاس ایک صاحب سرشتہ دار تھے ـ ان سے اس انگریز نے کہا تھا کہ ہماری جماعت میں بڑے بڑے متعدد بیدار مغز کام کے رہے ہیں اور تقریبا ڈیڈھ سو برس حکومت کرتے ہوگئے مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تیرہ برس میں انتظام کی جس حد تک پہنچے ہماری جماعت نہیں پہنچے ـ انہوں نے کہا اب آپ قائل ہوں گے کہ ان کے ساتھ یہ تائید غیبی تھی ـ اس نے کہا یہ تو آپ کا عقیدہ ہے مگر ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عاقل اعلی درجہ کے تھے ـ انہوں نے کہا ہمارے یہاں عقل کے ایسے ہی درجہ کا نام تائید حق ہے اسی عقل کے متعلق سفیر اسلامی نے ہرقل کے دربار میں جب اس نے حضرت عمر کی حالت کے متعلق پوچھا وہ چھوٹے چھوٹے جملے حضرت عمر کی تعریف میں کہے تھے ـ لا یخدع ولا یخدع ( وہ نہ دھوکہ دیتے ہیں نہ دھوکے میں آتے ہیں ) اس سے ہرقل جو کچھ سمجھا وہ بھی قابل تعریف ہے ـ چناچہ اس نے اہل دربار سے کہا کہ تم کچھ سمجھے لا یخدع خلیفہ کے دین کا کامل ہونے کی دلیل ہے ولا یخدع ان کے فراست اور عقل کے کامل ہونے کی دلیل ہے ہے اور جس شخص میں دین اور عقل جمع ہوں گے وہ سارے عالم پر غالب آ کر رہے گا ـ
