( ملفوظ 416 )اسراف بخل سے زیادہ مذموم ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بخل اپنی ذات میں مذموم نہیں خاص مصرف کے اعتبار سے برا ہے ورنہ بدوں تھوڑے سے بخل کے انتظام مشکل ہے یہ تو بخل لغوی ہے باقی اگر شرعی بخل بھی ہو اس کی نسبت بھی میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ ایسا بخل برا ہے مگر اسراف اس سے بھی زیادہ برا ہے مگر عرف میں جس قدر بخل پر مطعون کرتے ہیں اسراف پر نہیں کرتے بلکہ اس کو مستحسن سمجھتے ہیں اور فضول اور بے ہودہ طریق پر مال ضائع اور برباد کرتے ہیں مثلا بیاہ شادی کے موقع پر یا کوئی مر گیا تو تیجہ اور چہلم پر کس قدر صرف کرتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ جہاں بخل کی مذمت ہے وہاں اسراف کی بھی تو مذمت ہے چنانچہ فرماتے ہیں :
ان اللہ لا یحب المسرفین
( بے شک اللہ تعالی پسند نہیں کرتے حد سے نکل جانے والوں کو )
بلکہ باعتبار آثار کے اسراف زیادہ مذموم ہے چنانچہ بخل کا نتیجہ صرف دوسرے کو نفع نہ پہنچانا ہے اور اسراف کا دوسروں کو ضرر پہنچانا کیونکہ جب اپنے پاس نہیں دوسروں کا مال ان کو دھوکے دیکر قرض وغیرہ کے نام سے لیکر اڑاتا ہے پھر ادا بھی نہیں کرتا نیز ہم نے مسرفین کو مرتد ہوتے دیکھا ہے مگر بخلیوں کو نہیں ۔