(ملفوظ 256) اسراف کی بدولت مسلمان تباہ ہوگئے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان فضول خرچیوں اور اسراف کی بدولت مسلمان تباہ وبرباد ہوگئے مگر اس پر بھی آنکھیں نہیں کھلتیں ایک کو ایک دیکھ کرعبرت حاصل کرسکتا ہے مگر نہیں کرتے یہ مولوی صاحب کے دادا کا گاؤں تھا فضول خرچیوں کی بدولت جاتا آتا رہا بیٹے کی شادی میں اس قدر روپیہ صرف کیا جس کی کوئی انتہا نہ تھی بعد شادی حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمہ اللہ ان کے پاس تشریف لائے اور جاکر کہا کہ بھائی صاحب ورپیہ سے کوئی جائیداد خریدتا ہے کوئی زیور خریدتا ہے اس میں یہ فایدہ ہوتا کہ اگر وقت پرکل قیمت نہ ملے تو آدھی تہائی کچھ تو قہمت اٹھ آئے مگر آپ نے جوچیز خریدی ہے یعنی نام اس کی قیمت پھوٹی کوڑی بھی نہیں مل سکتی ان کی یہ حالت تھی کہ پہلوانوں کو دعوت دیدی دور دور سے پہلوان آرہے ہیں دنگل ہورہے ہیں ان کو کھلایا پلایا جارہا ہوگئے اور نتیجہ کچھ بھی نہیں ۔