(ملفوظ 378)جدید تعلیم یافتہ کو نصف تعطیلات ، اہل اللہ کی صحبت کا مشورہ

فرمایا کہ میں تو انگریزی کے جدید تعلیم یافتہ طلبا کے متعلق ایک رائے دیا کرتا ہوں کہ مختصر چھٹیاں اور تعطیلات جو ان کوتو وہ اپنے کھیل کود کے لئے رکھیں اوربڑی تعطیل کا نصف حصہ بھی کھیل کود میں صرف کریں اور نصف کسی اہل باطن اہل علم کی صحبت میں گزاریں اور جو کچھ وہ کہیں اس کو سنا کریں اگر اعتقاد سے بھی نہ سنیں تو انکار سے بھی نہ سنیں خلو ذہن کی ساتھ سنا کریں میرا تو یہ دعوٰٰی ہے کہ انشاءاللہ تعالٰی اس طرز سے چند روز میں ان کے قلب میں دین پیدا ہوجائے گا حضرت اس کی بڑی ضرورت ہے کہ آدمی مسلمان توہو اب تو اسی کے لالے پڑگئے کہ مسلمان بھی ہے یا نہیں اس میں ایمان بھی ہے یا نہیں بریلی میں ایک انگریزی دان لڑکا تھا بری صحبت سے اس کے عقائد خراب ہوگئے تھے میں بریلی گیا ہوا تھا ان کے دادا نے مجھ سے کہا کہ اس کو نماز پڑھنے کو کہہ دیجئے میں نے بدون کسی تمہید کے صاف لفظوں میں پوچھا کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے کہا کہ میں اللہ تعالٰی کا قائل نہیں نماز کس کی پڑھوں وہ لڑکا ایک مسلم کالج میں تعلیم پاتا تھا میں نے اس لڑکے کے دادا سے کہا کہ آپ نماز کی تبلیغ کراتے ہیں یہ تو مسلمان بھی نہیں اس کو اول اسلام کی تعلیم کی ضرورت ہے ان بیچاروں کو یہ سنکر بے حد صدمہ ہوا اور مجھ سے مشورہ لیا کہ اب کیا کروں میں نے کہا کہ اس کو اس کالج سے اٹھا کر گورنمنٹ اسکول یا کالج میں داخل کرو ان کو تعجب ہوا کہ یہ کیا بات ہے اسلامی کالج میں تو یہ کافرہوا اور غیر اسلامی میں مسلمان ہوجاوے گا میں نے کہا کہ میں اس وقت تک اس کی حکمت نہ بتلاؤں گا غرض انھوں نے ایسا ہی کیا سو چونکہ اسلامی کالج میں سب ایک ہی مذہب کے تھے اس لئے آزادی کے ساتھ جوچاہتا تھا کیا سو چونکہ اسلامی کالک میں سب ایک ہی مذہب کے تھے اس لئے آزادی کے ساتھ ہوچاہتا تھا بکتا تھا اور گورنمنٹ کالج میں بہت سے غیر مسلم بھی تھے وہ اسلام پراعتراض کرتے تو قومیت کی محبت میں اس کو باگوار ہوتا ان کو جواب دیتا اس طرح اسلام کا اثر قلب میں پیدا ہوتا رہا اور چند روز میں پکا اور کٹر مسلمان ہوگیا یہ حکمت تھی اس صورت میں اورایک تدبیر تھی نہایت دقیق اور میں تو بحمد اللہ اکثر تدابیر ہی سے کام لیتا ہوں وجہ یہ کہ اول تو مجھ میں قوت باطنی ہے نہیں ہاں قوت بطنی تو ہے دونوں وقت پیٹ بھرکر کھا لیا لیکن میں کہتا ہوں کہ اگرقوت باطنی ہوتی بھی تو میں اس سے کام نہ لیتا اس لئے کہ یہ انبیاء علیہم السلام کی سنت نہیں مجال تھی کہ ابولہب اور انو جہل ایمان سے رہ جاتے اگرحضور قوت باطنی سے کام لیتے نیز عبدیت کے بھی خلاف ہے خدا پرچھوڑدینا چاہئے اور تبلیغ وتدبیراس تفویض کے خلاف نہیں کیونکہ اس کا حکم خدا تعالٰی ہی نے کیا ہے پھر فرمایا جی یہ چاہتا ہے کہ مسلمان مسلمان ہوں ہندو نہ ہوں دیکھیئے میں صرف یہ چاہتا ہوں نہ امارت کا مخالف ہوں نہ سلطنت کا مگر لوگ مولویوں کے متعلق نہ معلوم کیا کیا خیال پکائے بیٹھے ہیں کہ یہ مسلمانوں کو پستی سکھلاتے ہیں ۔