( ملفوظ420 )جلالین کی تفسیر کے افتتاح کے لئے حضرت حکیم الامت کو دارالعلوم دیوبند بلانے کی دعوت

فرمایا کہ ایک بار بعض حضرات مدرسہ دیوبند سے مجھ کو لے جانے کے لۓ تشریف لاۓ تھے خصوص فلاں مولوی صاحب کا اس پر بے حد اصرار تھا اور خدمت یہ فرمائی تھی کہ مدرسہ میں حدیث شریف کا دورہ تو مدت سے ہوتا ہی ہے مگر تفسیر میں صرف جلالین شریف ہوتی ہے اب تجویز ہے کہ اور بعض کتب تفاسیر بھی نصاب میں بڑھا دی جائیں اور یہ کتابیں بھی سال بھر میں مثل حدیث شریف کے ہو جایا کریں ۔ بس اس کے افتتاح میں میری شرکت چاہتے تھے کہ تو شروع کرا دے ۔ میں نے سفر سے اپنی معذوری پیش کی مگر اس طرف سے برابر اصرار رہا میں نے کہا کہ اگر آپ کا ایسا ہی خیال ہے اس کی دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بیس طلباء یہاں پر آ جائیں ان کا خرچ بھی میرے ذمہ ہو گا میں ان کو یہاں ہی شروع کرا دوں گا اور مقصود حاصل ہو جائے گا کہنے لگے مدرسہ دیوبند میں تو یہ تقریب نہ ہوتی ۔ میں نے کہا میں اس جگہ کو مستقل جگہ خیال نہیں کرتا بلکہ مدرسہ دیوبند ہی کی ایک شاخ سمجھتا ہوں آپ بھی یہ ہی خیال فرما لیں کہ جیسے مدرسہ کے متعدد کمرے اور حجرے ہیں یہ بھی اسی کی ایک دسگاہ ہے پھر اس طرف سے عرض کیا گیا کہ حضرت نے ایک مرتبہ دیوبند تشریف لانے کا وعدہ فرمایا تھا فرمایا جس حالت کی ضرورت سے میں نے وعدہ کیا تھا اب بحمد اللہ وہ حالت نہیں رہی ۔ ارتفاع علت سے معلول کا بھی ارتفاع ہو جاتا ہے اس واقعہ کو ختم کر کے پھر فرمایا خدا کا فضل و کرم ہے کہ یہ درس و تدریس کا کام اور جگہ اچھا ہو رہا ہے اب ہر شخص ایک ہی کام میں لگ جائے ۔ اس کی کون ضرورت ہے اور میں تو اب اس کام کا رہا ہی نہیں سب بھول بھال گیا جو کچھ لکھا پڑھا تھا ۔ اب مجھ سے وہ کام لینا چاہئے جس کام کو میں کر رہا ہوں ۔ سنار سے سونا چاندی کی چیز بنوانا چاہئے جیسے چھاگل پہنچی جھومکے اور لوہار سے لوہے کی چیز بنوانا چاہئے جیسے پھاوڑا کھرپہ ۔