فرمایا کہ اس طریق کی حقیقت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بہت لوگ کیفیات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں چنانچہ کثرت سے ایسے خطوط آتے ہیں کہ ان میں یہی بھرا ہوتا ہے یہ نہیں ہوتا وہ نہیں ہوتا ۔ آج بھی ایسا ہی ایک خط آیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بھی اپنے زعم باطل میں کیفیات ہی کو مقصود سمجھے ہوئے ہیں ایسے شخص کی کسی کیفیت میں اگر کبھی کمی آ جاتی ہے تو اس کو سخت پریشانی یا پشیمانی کا سامنا ہوتا ہے چنانچہ ایک بزرگ بڑھاپے میں روتے تھے کسی نے رونے کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ میں تیس برس تک جہل میں مبتلا رہا حرارت غریزیہ کے نشاط کو جو جوانی میں ہوتا ہے نماز کی کیفیت سمجھتا رہا ۔ اب بڑھاپے میں جو وہ حالت نہیں رہی تب معلوم ہوا کہ وہ نماز کی کیفیت نہ تھی بلکہ جوانی کا جوش تھا اگر نماز کی کیفیت ہوتی تو بڑھاپے میں اس میں اور قوت ہوتی اسی لئے کہ اس کی تو یہ کیفیت ہوتی ہے جس کو فرماتے ہیں :
خود قوی تر میشود خمر کہن خاصہ آں خمرے کہ باشد من لدن
( پرانی شراب زیادہ قوی ہوتی ہے خاص کر وہ شراب جو قرب حق کی ہو ۔ 12 )
اور حقیقت میں یہ کیفیات نفسانی ہوتے ہیں عوارض نفسانیہ کے تغیر سے ان میں تغیر ہو جاتا ہے ۔ اس ہی لئے محققین اہل فن کہتے ہیں کہ یہ مقصود نہیں ہاں اگر کسی وقت مقصود کے معین بن جائیں تو محمود ہیں مگر مقصود نہیں ۔ اور اگر دین میں معین نہ ہوں تو پھر محمود بھی نہیں چنانچہ ریاضیات یا دوسرے عوارض سے یہ کیفیات کافر کو بھی حاصل ہو جاتی ہیں اور جو چیز کافر ، مسلم میں مشترک ہو وہ کبھی مقصود نہیں ہو سکتی ایسی کیفیات کافر کو حاصل ہو سکنے پر ایک واقعہ یاد آیا ۔
ایک مقام پر کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو کہ دونوں انگریز تھے مجلس سماع میں مدعو کیا گیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس وقت ایسی حالت ہے کہ اگر تھوڑی دیر رہی تو شاید کرسی سے گر پڑوں دوسرے نے کہا میرا بھی یہی حال ہے ۔
آخر باہم مشورہ کر کے اٹھ کر چل دئیے اب بتلائیے کہ کیا کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ بھی بزرگ تھے یہ کیفیت تو ان پر بھی طاری ہوئی ۔ بس ان کیفیات کا درجہ اس سے زیادہ نہیں کہ اگر یہ کیفیات مقصود میں معین ہوں محمود ہیں ورنہ محمود بھی نہیں اور مقصود تو کسی حال میں نہیں آج لاکھوں اہل طریق ان فضولیات کی بدولت اصل مقصود سے لاکھوں بلکہ کروڑوں کوس دور پڑے ہوئے ہیں اور اگر یہ ہی کیفیات حاصل بھی ہو جاویں ، تب بھی ان کی آخرت میں کچھ بھی قدر نہ ہو گی وہاں صرف اعمال کی پوچھ ہو گی ۔ ظاہر کی بھی باطن کی بھی ان ہی اعمال کے رسوخ کے لئے یہ تمام مجاہدات ریاضات مراقبات مکاشفات اشغال ہیں جو ایک تدبیر کے درجہ میں ہیں باقی اصل مقصود عبادات ہیں وہاں وہی کام آئیں گے اور ان ہی کی قدر ہو گی اور جب ان کیفیات کا درجہ معلوم ہو گیا تو اگر ساری عمر بھی کسی پر کیفیات نہ طاری ہوں مگر وہ اعمال کی پابندی اور ان کی ادا کی کوشش و سعی میں لگا رہے تو اس کی عبادت میں ذرہ برابر کوئی نقص نہیں اور راز اس میں یہ ہے کہ یہ کیفیات وغیرہ نہ اختیاری ہیں اور نہ مامور بہ ۔ مامور بہ بھی وہی چیزیں ہیں جو اختیاری ہیں اور انسان ان ہی کا مکلف ہے اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ شیخ کامل کی ضرورت ہے کہ وہ ان حقائق سے مطلع کرتا ہے اور غیر مقصود سے مقصود کی طرف لے جاتا ہے مگر آج کل اس تحقیق ہی سے لوگ گھبراتے ہیں اس ہی لئے میں اول مرتبہ میں سب معاملات طے کر لیتا ہوں اور بیعت کرنے میں عجلت نہیں کرتا کہ لوگ اس طریق کی حقیقت سے بے خبر ہیں ۔ بے خبری میں بیعت ہی کیا مفید ہو سکتی ہے اور یہ سب خلط مبحث ہوا جاہل صوفیوں اور پیروں کی بدولت ایسے ہی پیروں کی نسبت میں کہا کرتا ہوں کہ ان کے سب کے سب کمالات کا مقصود مالات ( یعنی مالیات ) ہیں مردہ دوزخ میں جائے یا بہشت میں انہیں اپنے حلوے مانڈے سے کام ۔
