ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ آپ نے میری تقریر میں غور نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ کو یہ شبہ ہوا میں تو کہہ چکا ہوں کہ یہ کیفیات مقصود نہیں ہاں اگر مقصود میں معین بن جائیں تو محمود ہیں مطلقا تو میں نے ان کی نفی نہیں کی بلا وجہ آپ مجھ پر الزام رکھتے ہیں قصور تو اپنے سننے کا اور ذمہ دار اس کا میں اس وقت خواہ مخواہ آپ نے طبیعت کو منقبض کر دیا ۔ آپ لوگوں کو کیا ہو گیا ۔ اب ایک ہی بات کو بیٹھا ہوا کھرل کئے جاؤں اور ہندی کی چندی کئے جاؤں اتنا دماغ کہاں سے لاؤں آپ جیسے لوگوں سے تعجب ہے کہ پوری بات نہ سنیں اور اس پر اعتراض کی صورت میں سوال وارد کر دیں مجھ کو اس وقت آپ کی وجہ سے سخت کلفت ہوئی آدمی کو کچھ تو فہم سے کام لینا چاہئے نواب بنے بیٹھے ہیں کچھ حس ہی نہیں آپ تو سوئی چھبو کر الگ ہوئے ۔ اب دوسرا کم بخت اس کی سوزش سے جھلا رہا ہے بلبلا رہا ہے ۔
عرض کیا کہ معافی چاہتا ہوں قصور ہوا فرمایا کہ کیا ان الفاظ سے وہ تکلیف بھی جاتی رہے گی معافی کو معاف ہے میں خدانخواستہ کوئی انتقام تھوڑا ہی لے رہا ہوں ۔ مگر آئندہ ایسی حرکت سے اجتناب رکھئے آپ کو معلوم نہیں کہ اس سے دوسرے کو کیا تکلیف پہنچتی ہے عرض کیا کہ اب آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کروں گا فرمایا کہ میں سوال کرنے کو منع نہیں کرتا ۔ مگر تمام تقریر کو محفوظ رکھتے ہوئے اگر کوئی شبہ وارد ہو ضرور سوال کیجئے میں انشاء اللہ ضرور جواب دوں گا ۔ باقی ویسے ہی بدوں سوچے سمجھے جو جی میں آیا ہانک دینا یہ تو رنج کا سبب ہو ہی گا ۔ میں تو کہا کرتا ہوں کہ تکلیف پہنچانے کا قصد تو نہیں ہوتا مگر اس کا بھی قصد نہیں ہوتا کہ تکلیف نہ پہنچے ساری خرابی بے فکری کی ہے ۔
