ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں جن کی طبیعتوں میں سلامتی ہوتی ہے ان کوتو ذکر وشغل سے نفع ہوتا ہے عجزوانکساری کی شان پیدا ہوتی ہے ورنہ اسی سے ناز پیدا ہوجاتا ہے کہ اپنے کو ذاکر سمجھنے لگتے ہیں میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ دوچیزیں ایسی ہیں جن سے کج طبعوں کو ناز پیدا ہوجاتا ہے ایک ذکروشغل سے اور ایک بڑھاپے سے اس لئے کہ لوگ بوجہ بڑا ہونے کے رعایت کرنے لگتے ہیں یہ اس کو اپنی بڑائی اوربزرگی پرمحمول کرنے لگتا ہے یہ نہیں سمجھتا کہ میں بڑا آدمی ہوگیا ہوں اس لئے لوگ رعایت کرتے ہیں اور حضرت بڑائی اور بزرگی توبڑی دور کی چیز ہے اگر ایمان ہی دنیا سے سلامت چلا جائے یہ ہی غنیمت ہے اسی کو بڑی دولت سمجھنا چاہئے اور یہ مرنے سے پہلے معلوم ہو نہیں سکتا پھرنازکیسا ۔
