ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں طلبہ کو ذکر وشغل نہیں بتلاتا اس لئے کہ تجربہ ہے کہ ایک وقت میں دو کام نہیں سوسکتے تو شروع کرکے چھوڑنا پڑے گا شروع کرکے چھوڑنا یہ نہایت بے برکتی کا سبب ہے بخاری کی حدیث اسکی دلیل ہے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ِ،، یا عبداللہ لا تکن مثل فلاں کان یصلی باللیل ثم ترکہ ِ،، ( اے عبداللہ اس شخص کی طرح نہ ہونا جورات کو نماز پڑھا کرتا تھا اس کو چھوڑدیا ۔ 12) اور جونہ بھی چھوڑا تواس میں کمی ہوگی جو اہم ہے اور سلف کے مجمع پر قیاس نہ کیا جاوے اس وقت ویسی قوت نہیں ہے البتہ علم سے فارغ ہوکر ذکر وشغل کرے اور ایسے وقت شروع کرے کہ پھر کرتا ہی رہے چھوڑے نہیں کہ بے برکتی سے محفوظ رہے ۔
