ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کسی کام شروع کرنے سے پہلے آدمی اپنے مقصود کو سمجھ لے تب آگے قدم بڑھائے میری اس تمامتر کھود کرید کا منشا یہی ہوتا ہے جسکو لوگ سخت گیری سے تعبیر کرتے ہیں ـ
مقصود نہ معلوم ہونیکی وجہ سے آدمی منزل مقصود تک نہیں پہنچتا اور ہمیشہ پریشانی یا محرومی کا شکار رہتا ہے آلہ باد میں ایک درویش ملے بقدر ضرورت فن داں تھے مجھ سے کہنے لگے کہ آپ چشتی ہو کر سماع کیوں نہیں سنتے میں نے کہا کہ میں ایک سوال کرتا ہوں پہلے آپ اسکا جواب دیں تب میں اسکا جواب دوں میں نے پوچھا کہ اس طریق کا حاصل کیا ہے کہا کہ مجاہدہ میں نے پوچھا کہ مجاہدہ کی حقیقت کیا کہا کہ نفس کی مخالفت میں نے کہا کہ اب بتلاؤ ایمان سے کہ سماع کو تماہرا جی چاہتا ہے کہا کہ چاہتا ہے میں نے کہا کہ ہمارا بھی چاہتا ہے مگر اتنا فرق ہے کہ تم تو نفس کے چاہنے پر عمل کرتے ہو اور ہم نہیں کرتے تو اب بتلاؤ مجاہدہ تم نے کیا یا ہم نے کیا صاحب مجاہدہ تم ہوئے یا ہم درویش تم ہوئے یا ہم کہنے لگے کہ اتنے زمانہ کے بعد آج غلطی سمجھ میں آئی اور ہمیشہ کے لئے سماع سے توبہ کر لی اور حضرت حاجی صاحب سے بذریعہ خط بیعت ہوئے یہ تسلیم فن سے واقفیت کی بدولت نصیب ہوئی دیکھئے انکو طریق کا معلوم تھا کسقدر جلد سمجھ گئے اور حق تعالی کا فضل ہوا واقفیت فن کے متعلق فرمایا کہ یہ ایسی چیز ہے کہ موسیٰ علیہ اسلام کے سامنے ساحرین بھی آئے اور فرعون واقف نہ تھا وہ سمجھا کہ یہ اس سے بھی بڑا سحر ہے ـ
سحر رابا معجزہ کردہ قیاس ہر دورابرمکر بنہادہ اساس
( فرعون نے معجزہ کو سحر پر قیاس کیا اور سمجھا کہ دونوں کی بنیاد مکر پر ـ )
