( ملفوظ 459) کامیابی تعلیم شیخ پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یوں تو مطلق تعلق بھی اہل اللہ کے ساتھ مفید ہے مگر اصل چیز فاتدہ کی انکی تعلیم کا اتباع ہے عادت اللہ بھی ہے کہ صحیح تعلیم ہی پر عمل کرنے سے کامیابی ہوتی ہے یہ دوسری بات ہے کہ حق تعالٰی کسی کے عقیدہ پر بدون مجاہدہ ثمرہ مرتب فرمادیں اس میں کس کا کیا دخل مگر لوگ خود ثمرہ ہی کے طالب نہیں اس لئے اسکے طرق سے گھبراتے ہیں اور وہ ثمرہ حسب عادت مجھ میں اور عام طالبین میں ـ اب یہ دیکھ کر میں ہی اپنا طرز بدلدونگا اور احتساب کی صورت ہی چھوڑ دونگا اگر کسی کو وہ ثمرہ ہی مقصود نہ ہو تو میں فضول کیوں اتنی کنج و کاؤ کروں میرے اس طرز کا دارومدار اس ثمرہ کے قصد پر ہے اگر اس ثمرہ سے قطع نظر کر لی جاوے پھر کچھ بھی نہیں الحمد اللہ فطری طور پر میرا مزاج سخت نہیں میں جب چاہونگا اس طرز احتساب کو چھوڑ دونگا میں تو اپنے اس طرز کے متعلق کہا کرتا ہوں کہ میری بداخلاقی کا منشاء خوش اخلاقی ہے یعنی شفقت سے چاہتا ہوں کہ طالب کو وہ ثمر حاصل ہو یہ شفقت ظاہر ہے کہ خوش خلقی ہے جب وہ اسکی بیقدری کرتا ہے اسوقت نا گواری ہوتی ہے اس نا گواری کا اظہار بد خلقی ہے ، تو بد خلقی کا منشا خوش خلقی ہوئی اخیر بات یہ ہے کہ جسکو یہ طرز پسند نہ ہو وہ آئے کیوں میں نے کس کو دعوت نہیں دی کوئی اشتہار نہیں دیا اس پر بھی اگر آتے ہیں تو جو ہمارا مسلک اور طرز ہے اسکا اتباع کرو یہاں آنیوالوں کو اسکا استحضار کر کے آنا چاہیئے ـ
یا مکن با پیلبا نان دوستی ، یا بنا کن خانہ برانداز پیل ،
یا مکش بر چہرہ نیل عاشقی ، یا فرد شو جامئہ تقوی نہ نیل
( یا تو ہاتھی والے سے دوستی مت کرو یا گھر ایسا بناؤ جس میں ہاتھی آ سکے یا تو عاشقی کا رنگ اپنے اندر مت پیدا کرو یا پھر تقویٰ ( ظاہری ) کو خیرباد کہو 12 ـ )
یہاں تو جیسے معاصی پر روک ٹوک ہوتی ہے ویسے ہی بد تہذیبی پر بھی ہوتی ہے اس حالت میں ہر کہ خواہد گو بیاؤ ہر کہ خواہد گوبرو ( جسکا دل چاہے آوے اور جسکا دل چاہے جاوے )
13 صفرالمظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یکشنبہ