ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شیخ کامل کا حالت مشابہ عوام کے ہوتی ہے وہ سب میں ملا جلا رہتا ہے اسکی کوئی خاص امتیازی شان نہیں ہوتی اور یہ ہی حالت حضرات انبیاء علیہم السلام کی تھی اور اس ہی حالت کو دیکھ کر لوگوں نے کہا ان انتم الا بشر مثلھا انبیاء علیہم السلام نے اسکی نفی نہیں کی بلکہ اثبات میں جواب فرمایا : ان نحن الا بشر مثلکم ( تم ہمارے ہی جیسے ہو )
بیشک ہم بشر ہیں ہمیں اس سے انکار نہیں مگر اس کے ساتھ ہی یہ فرمایا کہ
ولکن اللہ یمن علی من یشاء من عبادہ ( لیکن اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرمادے ( چناچہ ہم پر احسان فرمایا کہ ہم کو نبوت عطا فرمائی )
البتہ اولیاء متوسطین میں امتیازی شان ہوتی ہے جن کو عوام بھی امتیازی شان سمجھتے ہیں مگر انبیاء اور اولیاء کاملین مشابہ عوام کے اپنی حالت رکھتے ہیں انکی تو بس یہ شان ہوتی ہے ـ
دلفریباں نباتی ہمہ زیور بستند دلبر ماست کہ با حسن خدا داد آمد
مجازی سب زیور کے محتاج ہیں اور ہمارے محبوب کو حسن خدا دلواد حاصل ہے ـ
غرض شیخ کامل اپنی شان میں مشابہ ہوتا ہے انبیاء علیہم السلام کے جہاں اور کمالات اسپر مشکوۃ ( شمع ) نبوت سے فائض ہوتے ہیں اسپر یہ بھی انبیاء کا ہی فیض ہوتا ہے کہ اسکا چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا نشت و برخاست رفتار گفتار سب سنت ہی کے تابع ہوتا ہے ـ
