ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شیخ اکبر رحمتہ اللہ علیہ سے منصوص ہے کہ بعض کشف میں تلبیس بالکل نہیں ہوتی ـ مگر یہ تلبیس نہ ہونا مستلزم حجیت کو نہیں یعنی اگر کشف بلا تلبیس بھی ہو تب بھی حجت نہیں جیسا کہ اگر کوئی شخص 29 رمضان کو عید کا چاند دیکھ لے مگر تفرد کی وجہ سے اس کی شہادت مقبول نہ ہو تو خود اس کو بھی اس رویت پر عمل جائز نہیں ـ یعنی صبح کو روزہ رکھنا واجب ہوگا ـ دیکھئے یہاں تلبیس نہیں مگر پھر بھی اس پر عمل جائز نہیں ـ اس کی ایک تائید آیت سے ہوتی ہے قرآن پاک میں ہے لولا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون والمؤمنات الی قولہ تعالی ۔ سبحانک ھذا بھتان عظیم تقریر تائید یہ ہے کہ اسمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ : لولا جاؤا باربعۃ شھداء فاذلم یا تو بالشھداء فاولٰئک عنداللہ ھم الکذبون حالانکہ شہداء کا نہ ہونا مستلزم نہیں کذب واقعی کو مثلا خود مشاہدہ کر لیا مگر نصاب شہادت پورا نہیں ـ ہوا یہاں تلبیس بالکل نہیں مگر باوجود اس کے یہ مشاہدہ حجت نہیں حتی کہ خود صاحب مشاہدہ کو بھی زبان سے اس کا تکلم کرنا جائز نہیں ـ اور دوسروں پر بھی واجب ہے کہ سنتے ہی کہہ دیں ـ ھذا بھتان عظیم
