ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض کشف ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس میں بالکل احتمال غلطی کا نہیں ہوتا ـ مگر پھر بھی شرعا حجت نہ ہوگا اور اس کو مستبعد نہ سمجھا جاوے کہ جب اس میں غلطی کا احتمال نہیں ـ پھر حجت نہ ہونے کی کیا وجہ ـ اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ ایک شخص رمضان 29 تاریخ کو عید کا چاند دیکھتا ہے اور دیکھنا ظاہر ہے کہ حسی طور پر ہے جس میں کوئی اشتباہ نہیں پھر اس پر یہ بھی واجب ہوگا کہ قاضی سے جا کر ظاہر کرے کیونکہ ممکن ہے کہ اور بھی کوئی شہادت ہو گو اپنے علم میں یہ واحد مگر نہ سمجھے کہ واحد کی شہادت مقبول نہ ہوگی ـ تو شہادت سے کیا فائدہ کیونکہ اگر سب دیکھنے والے اپنے کو واحد سمجھ کر شہادت سے تقاعد کریں تو رویت کیسے ثابت ہو ـ غرضیکہ اس نے جا کر قاضی سے کہا مگر اتفاق سے اور کوئی شہادت نہ تھی ـ اس لئے قاضی نے کہہ دیا کہ حجت نہیں تو اس صورت میں باوجود اس کے کہ اس نے خود دیکھا اور بلا اشتباہ دیکھا مگر پھر بھی خود اس کے لئے بھی حجت نہیں ـ چناچہ یہ بھی روزہ وجوبا رکھے گا ( یعنی اس کو بھی بوجہ عید کا چاند خود دیکھ لینے کے بعد افطار کرنا جائز نہیں بلکہ روزہ ہی رکھنا واجب ہے ـ کیونکہ شہادت شرعی سے چاند ثابت نہیں ہوا ) ایسے ہی اگر کسی کو کشف ہو اور بالکل بلا تلبیس مگر پھر بھی عدم تلبیس مستلزم نہیں ـ حجت کو شیخ اکبر بعض کشوف میں تلبیس کی نفی فرماتے ہیں مگر غلطی سے یہ مشہور ہو گیا کہ وہ کشف بلا تلبیس کو حجت سمجھتے ہیں ان کے قول میں یہ کہیں تصریح نہیں کہ بعض حجت ہے ـ پس مذہب منصور سب کے نزدیک یہ ہی ہے کہ کشف حجت نہیں ـ
