ملقب بہ حقوق الا نفاق ) ایک نو وارد صاحب نے حضرت والا کی خدمت میں ایک پرچہ پیش کیا جو کسی دوسرے صاحب نے ان کے ہاتھ بھیجا تھا ـ ملاحظہ فرما کر فرمایا کہ اس میں تو کوئی ایسی بات نہیں لکھی ـ جس کے لئے آدمی کو بھیجنے کی اور اتنا خرچ کرنے کی زحمت گوارا کی ـ خیر اگر آپ کو معلوم ہو تو آپ ہی کوئی بات بتلائیں ـ اس میں تو بالکل گول مول بات لکھی ہے ـ وہ صاحب خاموش رہے کوئی جواب نہیں دیا ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ وہ کاتب صاحب سامنے نہیں خط کا مضمون کافی نہیں ـ آپ بولتے نہیں ـ اب کام کیسے چلے فرمایا بعضے لوگ زرا سی بات پر پیسہ کو نہایت بے دردی سے صرف کرتے ہیں ـ خدا کی نعمت کی قدر نہیں کرتے ـ بھلا آدمی کے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی ـ ایک کارڈ سے جو کام ہو سکتا ہے اس کے لئے اتنا صرف اگر موقع محل اور ضرورت میں ہزار بھی صرف ہو جائیں تو دل کوقلق نہیں ہوتا فرمایا کہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مثلا دونوں گھروں میں ضرورت کے موقع پر ایک ایک ہزار روپیہ دینے کا ارادہ کر لیا تو قلب میں تقاضا ہوتا ہے ـ کہ جلد یہ کام کردینا چاہیئے ـ مالکی محبت صرف کرنے سے مانع نہیں ہوتی ـ اور بے موقع اور بلا ضرورت ایک پیسہ صرف کرنے کو بھی جی نہیں چاہتا ـ ایک روز ایسا ہوا کہ ایک پیسہ گم ہو گیا دیر تک اس کو تلاش کیا نہیں ملا پھر نیاز سے کہا کہ تم بھی ڈھونڈھنا اب اس کو چاہے کوئی بخل ہی سے تعبیر کرے جب تک مل نہ گیا ـ چین نہیں آئی ـ کیونکہ وہ گم ہو جانا کسی مد میں شمار نہ تھا ـ فضول جانے کا قلق تھا اور اگر باوجود تلاش کے بھی نہ ملتا تو اس بھی ایک مد سمجھ رکھا ہے ـ وہ یہ کہ نہ ملنے پر صبر کا ثواب تو ملا ـ ایک ریاست سے ایک شخص کو محض اجوائن سیاہ مرچ پڑھوانے کے واسطے بھیجا گیا ـ سو جو کام ایک روپیہ میں ہو سکتا تھا ـ ڈاک کے ذریعہ سے اس میں اتنا صرف کیا فائدہ ایک شخص مجھ سے بیان کرتے تھے کہ فلاں نواب صاحب کا ایک چھوٹا سا لڑکا بیمار ہو گیا تھا تو اسی تمارداری میں روزانہ چار سو پانچ سو روپیہ صرف ہوتا تھا ـ یعنی ڈاکٹروں میں طبیبوں میں جھاڑ پھونک والوں میں شائد اتنا وزن لڑکے میں بھی نہ ہوگا جتنے وزن کی چاندی صرف ہو گئی ہوگی ـ اس سے میرا یہ مطلب یہ نہیں کہ صرف نہ کیا جائے یا پیسہ اولاد سے زیادہ عزیز ہے ـ مطلب یہ ہے کہ جیسے اولاد خدا کی نعمت ہے ـ پیسہ بھی ان ہی کی نعمت ہے اس کو بھی طریقہ سے ہی صرف کرنا چاہیئے ـ اور اس موقع پر بہت سا فضول بھی صرف ہو رہا تھا ـ ان نواب صاحب نے یہاں آدمی بھیجا دعاء کے لئے اور دس روپیہ بھیجے کہ ختم میں دعا کر دیجئے میں نے مزاہن کہا کہ وہ چیزیں تو اس قدر صرف کر رہے ہیں اور یہاں پر دس روپے بھیجے کم از کم پچاس تو بھیجے ہوتے اور یہ کہہ کر میں نے دو روپیہ رکھ لئے اور آٹھ واپس کر دیئے اور لکھ دیا کہ دو روپیہ میں ایک مہینہ تک دعاء ہوتی ہے ـ اللہ تعالی سے امید ہے کہ اس مدت میں اس کو آرام ہوجائے گا ـ ایک مرتبہ میں بمبئی گیا ـ چھوٹے گھر سے حج کو جا رہی تھی ـ ان کو جہاز میں سوار کرنے گیا تھا ـ وہاں پر حکیم محمد سعید صاحب نے ہم لوگوں کیلئے ایک مکام کرایہ پر لیا تھا ـ بڑا مکان تھا کرایہ وہاں عموما بہت زیادہ ہوتا ہے ـ غالبا تین سو روپیہ میں لیا گیا تھا ـ حکیم صاحب کے یہاں سے کھانا وہاں ہی آجاتا تھا ـ اس میں غسل خانہ کے نام سے ایک حصہ تھا ـ مگر چونکہ وہ مکان نیا بنا تھا ـ اس میں غسل وغیرہ کرنا شروع نہ ہوا تھا کھا نا جو آتا تھا اس غسل خانے میں رکھ دیا جاتا اور کھانا خرچ سے بہت زائد آتا تھا اور کھا کر بچ جاتا تھا ـ تو کھانا لانے والے نوکر یہ حرکت کرتے کہ بچا ہوا کھانا اس غسل خانہ کی کھڑکی سے باہر نالی میں پھینک دیتے ـ اس نالی میں اس نالی میں گندہ پانی بہتا تھا ـ پھر علاوہ رزق کے احترام کے وہ کھانا صورۃ بھی نہایت عمدہ ہوتا تھا ـ پلاؤ ، زردہ ، قورمہ ، مزعفر مگر نا معقول اس کے نہ معنی کا ادب کرتے نہ صورت کا احترام مجھ کو ایک روز معلوم ہوا کہ کھانا اسطرح پھینک دیا جاتا ہے ـ مجھ کو اس قدر رنج اور صدمہ ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا ـ میں نے ان لوگوں کو ڈانٹا کہ خدا کی نعمت کی یہ بے قدری کرتے ہو اور پھر میں نے حکیم صاحب سے شکایت کی کہنے لگے کہ یہ ایسے ہی نالائق ہیں ـ ممکن ہے کہ بعد میں زیادہ ڈانٹ ڈپٹ کی ہو پھر بعد میں سمجھ میں آیا کہ وہاں کی فضا اور ماحول میں یہ اثر ہے کہ نعمت کی قدر نہیں کی جاتی ـ اور یہ ملازم گو بمبئی کے رہنے والے نہ تھے ـ ہندستانی ہی تھے مگر وہاں کے برتاؤ کو دیکھتے دیکھتے ان میں بھی بے حسی پیدا ہو گئی ـ اتفاق سے وہاں پر لوگوں کی درخواست پر ایک بیان ہوا ـ میں نے سوچا اگر اختلافی مسائل کا بیان کرتا ہوں تو فتنہ کا اندیشہ ہے ـ یہ وہاں پر بڑی آفت ہے ـ قتل تک کی سازشیں شروع ہو جاتی ہیں ـ اور اگر نماز روزہ کا بیان کرتا ہوں تو اسکو سب جانتے ہیں ـ اس لئے چنداں نفع نہیں ایسا بیان ہو کہ یہ بھی نہ ہوں اور اس میں نزاع بھی نہ ہو ـ اسلئے میں نعمت الہیہ کی قدر کے متعلق اس آیت کا بیان کیا ـ وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت اٰمنۃ مطمئنۃ یا تیھا رزقھا رغدا من کل مکان فکفرت بانعم اللہ فاذاقھا اللہ لباس الجوع والخوف بما کانوا یصنعون ۔ کہ تم خدا کی نعمت کی قدر نہیں کرتے ـ اب اس بے قدری کا نتیجہ چند ہی روز ہی میں برآمد ہوا ـ واقف لوگوں سے معلوم ہوا کہ جن کی کئی کئی کروڑ کی حیثیت تھی ـ اب وہ سڑکوں پر رات بسر کرتے ہیں ـ خدا کی نعمت کی بے قدری کرنا ـ بڑی خطرناک بات ہے ـ میں ایک مرتبہ ریل میں سفر کر رہا تھا ـ ہمراہیوں میں خواجہ صاحب تھے اور ایک صاحب رئیس تھے ـ قنوج کے جوبہت دیندار آدمی تھے ـ کھانا ساتھ تھا ـ جب کھانا شروع کیا ـ اتفاق سے ایک بوٹی ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے کے تختے پر گر گئی ـ ان صاحب نے یہ کیا کہ اس کو جوتہ سے تختے کے نیچے سرکا دیا ـ مجھ کو انکی یہ حرکت بے حد ناگوار ہوئی ـ اب سوچا کہ اگر کچھ کہتا ہوں تو نیک آدمی اور رئیس پھر بوڑھے بھی ان کو کیا کہوں مگر تنبیہ ضرور تھی ـ یہ سمجھ میں آیا کہ ان کو عملی تبلیغ کرنا چاہئے میں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ یہ خدا کی نعمت ہے ـ اس کو اٹھا کر اور دھو کر مجھ کو دی جائے ـ میں اسکو کھاؤں گا خواجہ صاحب بے حد نفیس آدمی ہیں ـ انہوں نے کہا اگر کوئی اور کھا لے تو کیا اسکو اجازت ہو سکتی ہے ـ میں نے کہا اجازت ہے ـ مشرطیکہ طبیعت گوارا کرے ـ مقصود تو خدا کی نعمت کا احترام ہے خواجہ صاحب نے اٹھا کر دھو کر صاف کر کے اس بوٹی کو کھا لیا ـ وہ صاحب اس وقت تو کچھ نہیں بولے مگر میری غیبت میں کہا کہ اگر پچاس جوتے مار لئے جاتے مجھ اسقدر شرمندگی نہ ہوتی ـ جتنی اس صورت میں ہوئی ہے ـ آئندہ ایسی حرکت کبھی نہیں ہو سکتی ـ میں گھر جاتا ہوں کہ کہیں پر روٹی کا ٹکڑا یا اناج کا دانہ کہیں دیکھتا ہوں کانپ جاتا ہوں ـ فورا اس کو اٹھاتا ہوں اوراحترام سے اسکو حفاظت کی جگہ رکھ دیتا ہوں ـ بعضی مرتبہ چنے وغیرہ گھونگنی کھانے کا اتفاق ہوتا ہے اور اچٹ کر کوئی دانہ گر جاتا ہے اگر شب کا وقت ہوتا ہے تو اس کو لالٹین سے ڈھونڈتا ہوں جب تک پا نہیں جاتا اور اس کو صاف کر کے کھا نہیں لیتا ـ قلب کو چین نہیں آتا ـ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ ” یا عائشہ اکرمی الخبز ” یعنی اے عائشہ رزق کا احترم کرنا چاہئے ـ یہ جس گھر سے نکل جاتا ہے پھر واپس نہیں آتا ـ یہ عبرت بڑے خوف اور عبرت کا مقام ہے ـ یعنی رزق کا گھر سے نکل جانا اس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے پھر کیا نوبت ہوتی ہے ـ اگر آئے گا بھی تو شائد کسی آئندہ نسل میں آئے گا اس کو میسر ہونا مشکل ہے ـ غالب یہی ہے حق تعالی کی نعمتوں کی بے قدری کرنا اور ان کا قلب میں احترام نہ ہونا صاف کفران نعمت ہے وہ عطا فرمائیں اور یہ قدر نہ کرے اس کا جو کچھ انجام ہوگا ظاہر ہے ـ ایک صحابی ہیں حضرت حزیفہ وہ فارس کی کسی مقام پر بطور دروہ حکام تشریف ہے گئے بڑے بڑے رئیس کفار ملاقات کے لئے آئے ـ آپ اس وقت کھانا کھا رہے تھے اور وہ تمام کفار بھی پاس بیٹھے ہوئے تھے ـ آپ کے ہاتھ سے لقمہ چھوٹ گیا ـ آپ نے اٹھا کر صاف کر کے کھا لیا ـ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں آپ بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے ـ وہ کوئی خاص اور ممتاز جگہ نہ تھی یعنی وہاں قالین گدے نہ تھے ورنہ لقمے کو لگتا ہی کیا زمین میں بیٹھے ہوئے کھا رہے تھے ـ جبھی تو صاف کرنے کی نوبت آئی ـ مٹی میں ملوث ہو گیا ہوگا ـ ایک خادم نے چپکے سے عرض کیا کہ حضرت اس وقت یہاں پر بڑے بڑے دنیا دار کفار کا مجمع ہے ـ اور یہ ایسی بات کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں ـ انہوں نے تولیت پست آواز سے کہا تھا مگر انہوں نے بلند آواز سے فرمایا کہ کیا میں ان احمقوں کی وجہ سے اپنے خلیل اور اپنے محبوب جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو چھوڑ دونگا ـ کیا ٹھکانا ہے ان حضرات کے ایمان کا ایمان قلب میں رچا ہوا تھا ـ جو بات آجکل ریاضتوں ، مجاہدو ، مراقبوں ، مکاشفوں سے پیدا کی جاتی ہے ـ وہ ان حضرات کے ویسے ہی حاصل یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں کی قدر کرنا چاہئے ـ اسراف سے بچنا بھی اسی قدر میں داخل ہے اور اسراف کا سہل علاج یہ ہے کہ جب خرچ کرو سوچ کر خرچ کرو کہ ضرورت ہے یا نہیں ـ یونہی مت اڑادو ـ اس کے متعلق تو نص ہے ـ فضول مال اڑانے والوں کی نسبت حق تعالی فرماتے ہیں ـ ولا تبزر تبزیرا ان المبزرین کانوا اخوان الشیاطین فضول مال اڑانے والوں کو شیطان کا بھائی فرمایا اس بڑھ کر کیا وعید ہو سکتی ہے ـ ایک مقام پر فرماتے ہیں ـ ان اللہ لا یحب المسرفین غرض جہاں صرف ہو حدود کے اندر ہو ـ
16 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
