ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر خلوص ہوتو دوستوں سے ملنا ان سے باتیں کرنا بھی عبادت ہے حضرت حاجی صاحب کا یہ مزاق تھا فرمایا کرتے تھے کہ دوستوں سے باتیں کرنا بھی عبادت ہے مگر شرط یہی ہے کہ خلوص ہو اور نیت اچھی پر ایک حکایت یاد آئی دو بزرگ تھے درمیان میں دونوں میں کے دریا حائل تھا ایک بزرگ کے پاس کھانے کو نہ تھا دوسرے بزرگ کو مکشوف ہوا اپنی بیوی نے کہا کہ درمیان میں دریا حائل ہے کیسے
جاؤں فرمایا کہ یہ کہنا کہ بہ برکت فلاں شخص کی ( یہ اپنی طرف اشارہ تھا )
جس نے چالیس سال سے اپنی بیوی سے ہمبستری نہیں کی راستہ مل جائے بیوی کو بڑا تعجب ہو ا کہ جھوٹ کی بھی کوئی حد ہے ہر وقت تو سینے پر سوار رہتا ہے مگر ان کے کہنے سے یہی کہہ دیا پایاب ہوگیا کھانا پہنچا دیا ان بزرگ نے اس کے سامنے ہی کھالیا واپسی کے وقت اس دریا کے حائل ہونے کا اشکال کیا انہوں نے دعا ء سکھلائی کہ بہ برکت اس شخص کے ( یہ اشارہ تھا اپنی طرف ) جس نے چالیس سال سے کھانا نہیں کھایا راستہ مل جائے اس پر مکرر تعجب ہوا کہ میرے سامنے کھانا کھایا اتنا جھوٹ کہنے سے پھرراستہ مل گیا اپنے شوہر سے یہ اشکال پیش کیا انہوں نے فرمایا کہ مطلب اس کا یہ تھا کہ ہمبستری اور تناول طعام امر کے تحت تھا خظ نفس کے لئے نہ تھا اسی کو مولانا فرماتے ہیں
کار پاکان را قیاس از خود مگیر گرچہ باشد در نوشتن شیر وشیر
اس خلوص پر ایک مناظرہ یاد آیا ایک مرتبہ مولوی تراب صاحب لکھنوی اور مفتی سعداللہ صاحب رامپوری میں گفتگو ہوئی مولوی تراب صاحب مولود متعارف کے حامی تھے اور مفتی صاحب مانع تراب صاحب نے مفتی صاحب سے کہا کہ کیوں صاحب ابھی تک آپ کا انکار چلا ہی جاتا ہے مفتی صاحب نے کہا کہ ابھی تک آپ کا اصرار چلاہی جاتا ہے مولوی تراب صاحب نے کہا واللہ ہمارے اس فعل کا منشا بجز محبت رسول ﷺ کے اور کچھ نہیں سعداللہ صاحب نے کہا واللہ ہمارے منع کا منشابجز متابعت رسول ﷺ کے اور کچھ نہیں مولوی تراب صاحب نے کہا الحمدللہ ہم تم دونوں ناجی ہیں یہ رنگ تھا اہل اخلاص کے مناظرہ کا ۔
