ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بڑے بڑے القاب اور چکنے چیڑے الفاظ میں کیا رکھا ہے خلوص اور محبت ہو تو معمولی الفاظ بھی پیارے ہوجاتے ہیں دیکھ لیجئے اللہ تعالیٰ کا نام صرف سب لیتے ہیں کوئی بھی مخدومنامکر منا نہیں کہتا مکہ معظمہ میں شریف حسین تھے کہ ایک معمولی بدوی آکر اس طرح ہکارتا یا حسین یا حسین اور وہ نہایت خندہ پیشانی سے خوش خوش گفتگو کرتے تھے اگر یہ سادگی محبت سے ہوتو کیا مضائقہ ہے بلکہ اچھا معلوم ہوتا ہے ـ ایک بڑی بی تھیں میری سر پر ہاتھ پھیرا کر دعا دیا کرتی تھیں کہ بچے تو جیتا رہ تیری عمر بڑی ہو چونکہ محبت تھی اور سادگی سے ایسا برتاؤ کرتی تھیں ان کی یہ ساری باتیں پیاری معلوم ہوتی تھیں ایک بار گھر میں سے کہا برادری میں ایک یہ ہی بڑی رہ گئی ہیں جو تم کو پیار کر سکتی ہیں ـ میر ٹھ میں حافظ عبدالکریم رئیس تھے ان کی عادت تھی اکثر بیٹا بیٹا کہاکرتے تھے ایک چمار آیا عمر کا آدمی تھا اس کو بھی بیٹا کہا اس چمار نے کہا کہ تمہارے باپ کی برابر تو میری عمر اور مجھ کو بیٹا کھتے ہو حافظ صاحب بہت متواضع تھے برا نہیں مانا غرض حافظ صاحب محبت سے ایسا کہتے تھے کوئی بھی برا نہ مانتا تھا اصل چیز محبت ہے تعظیم میں کیا رکھا ہے بلکہ زیادہ تعظیم ورٓتکریم تو ایک قسم لے حجاب ہیں یہ محبت کی سادگی تو ہم نے اپنے بزرگوں میں دیکھی بالکل اپنے کومٹائے ہوئے تھے پھر تکلف کہاں رہتا حضرت مولانا قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے والد شیخ اسد علی حقہ بہت پیتے تھے جب ضرورت ہوتی فرماتے کی بیٹا قاسم حقہ بھردے مولانا یہ حالت تھی کہ فورا حکم کی تعمیل فرماتے باوجود اس کے کہ مرید اور شاگرد سب موجود مگر کچھ پرواہ نہیں اگر کوئی کہتا بھی تو فرماتے کہ یہ تمھاراکام نہیں یہ میرا کام ہے ـ اللہ اکبر کیا ٹھکانا ہے اس انکسار اور فنا کا بالکل ہی اپنے مٹادیا تھا ـ مولوی معین الدین صاحب کہتے تھے کہ ایک ولا ئیتی درویش آئے بڑے غصہ میں بھر ہوئے نماز پڑھ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوگئے جب لوگ نماز پڑھ کر نکلنے لگے مولانا کے والد بھی آئے انکا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ تم مولانا سے حقہ بھرواتا ہے آخر باپ تھے کہا کہ جی ہاں بھرواتا ہوں ان درویش نے کہا کہ کبھی باپ ہونکے بھروسہ رہو تم جس وقت مولانا حقہ بھرنے کو کھتے ہو حاملان عرش کانپ اٹھتے ہیں اگر تم نے عنقریب توبہ نہ کی تو کوئی وہاں نازل ہوگا پھر انھوںنے ایسی فرمائیش نہیں کی دوسراواقعہ حضرت مولانا ہی کا ہے جلال آباد کے ایک اخانصاحب حضرت کے مہمان ہوئے آدھی رات کو پلنگ پر پڑی ہوئے کروٹیں بدل رہے تھے مولانا بڑے ذہین تھے سمجھ گے کہ غالبا حقے کے عادی ہیں مولانا اسی وقت محلہ سے حقہ مانگ کرلائے اور بھر کر چار پائی کے برابرمیں لا کر رکھ کر فرمایا کہ میںپیتا نیہں لئے بھرنا نہیں آتا دیکھ لیجئے کسی چیز کی کمی پیشی ہوتو ٹھیک کردوں خان صاحب بیچارے پلنگ سے اتر کر الگ ہوگئے بڑی عزر معزرت کی فرمایا کہ تم مہمان ہو تمہارا حق ہے اس میں شرمندگی اور محجوب ہونیکی کونسی بات ہے ان خان صاحب کے ساتھ ایک بازاری عورت تھی بے نکاحی اور یہ پہلے سے علماء کے معتقد نہ تھے یہ کہا کرتے تھے کہ سب کو دیکھ لیا ہے صبح ہی کو حضرت مولانا مرید ہوگئے اور اس عورت کو بھی مرید کروایا اور نکاح پڑھوایا تو حضرت مولانا اس قدر منکسر المزاج تھے ۤـ کہ اپنے مہمانوں تک کا حقہ بھرتے تھے بھلا باپ کا حقہ بھرنا تو کیسے چھوڑ سکتے تھے اور سچ تو یہ کہ بڑا بننے میں کیا رکھا ہے بلکہ بعد تجربہ دین کے لئے تومضر ہے ہیَِ ، یہ بڑا بننا دنیا میں بھی مصائب کا نشانہ بناتا ہے مولانا فرماتے ہیں ـ
خشمہا ؤچشمہا در شکہا، بر سرت ریز وچوآپ ازمتکہا
(اگر بڑا بنوگے تو لوگوں کے غصے اور نگاہیں اور رشک وحسد تجھ پر ایسا پڑیں گے جیسے مشک سے پانی گرتا ہے ـ 12 )
غرض ضرورت محبت اور خلوص کی بڑئی کی ضرورت نہیں ایک مرتبہ ایک گاؤں کا شخص مجھ سے بیعت تھا اکثر میرے پاس آیا کرتا تھا ایک دن کہنے لگا کہ ہمارے گاؤں میں ایک فقیر آیا کرتا ہے اگر کہو تو اس کا طالب ہوجاؤں(یہ ایک صطلاح ہے گاؤں والوں کی مرید کے بعد ایک درجہ نکالا ہے طالب کا ) میں نے اسکو غصہ کے لہجئے میں ڈانٹا اس لئے کہ وہ فقیر شریعت کا پابند نہ تھا – ایک عرصہ کے بعد میں نے اس شخص سے مزاحا پوچھا کہ اب بھی کسی کا طالب بنے گا محبت بھرے لہجے میں سادگی سے کہتا ہے کہ بس اب تو تیراہی پلہ ( دامن ) پکڑ لیا مجھے اس وقت اسکا یہ کہنا بہت ہی پیارا معلوم ہوا اوریہ الفاظ کئی مرتبہ اس کی زبان سے کہلوائے ہر مرتبہ ایک نیا لطف آیا ـ محبت میں کیسے ہی الفاظ ہوں پیاری معلوم ہوتے ہیں اور اس پر ملامت بھی نہیں ہوسکتی اس کو مولانا رومی رحتہ اللہ علیہ فرماتے ـ
گفتگو عاشقاں در کار رب جو شش عشقست نے ترک ادب
بے ادب تر نیست زوکس درجہاں باادب تر نیست زوکس درنہاں
حق تعالیٰ کے بارہ میں عاشقان حق کی باتیں بے ادبی کیوجہ سے نہیں ہوتیں بلکہ جوش محبت کی وجہ سے ہوتی ہیں ظاہر میں تو اس سے زیا دہ کوئی بے ادبے معلوم نہیں ہوتا اور باطن میں اس سے زیادہ باادب کوئی نہیں ہوتا ـ 12)
