( ملفوظ 555 )کھانے کے بعض مسنون آداب کی تحقیق

فرمایا حدیث شریف میں آیا ہے کہ : ما اکل رسول ا صلی اللہ علیہ وسلم علی خوان ولا سکرجۃ ولا خبز لہ رقاق یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے چوکی اور تشتری پر کھانا نہیں کھایا اور کبھی آپ کے لئے چپاتی پکی ـ مشہور یہ ہے کہ جس کام کو آپ نے نہیں کیا وہ نہ کرنا چاہئے اور اس قاعدہ کی اس سے تائید کی کہ عیدین میں مثلا اقامت اور اذان آپ کے وقت میں نہیں ہوئی لہذا جماعتا نہ کرنا چاہئے لیکن قاعدہ کلیہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک تو ہے عدم الفعل ( کسی کام کو نہ کرنا ) اور ایک ہے ترک الفعل ( کسی کام کو چھوڑنا ) ان دونوں میں بڑا فرق ہے پس عدم الفعل تو عدم قصد سے بھی ہوتا ہے اور ترک میں اس کے اعدام ( مٹانے ) کا قصد ہوتا ہے پھر یہ قصد جس مرتبہ کا ہوگا اسی قدر عدم الفعل سے تو اس کا کرنا نا جائز نہیں ہوتا بشرطیکہ اور کوئی قباحت شرعی لازم نہ آئے اور ترک الفعل البتہ نا پسندیدگی پر دال ہے اس حدیث میں اس امر کا بیان ہے کہ اس وقت ایسے تکلفات نہ تھے پس مدلول اس کا عدم الفعل ہے نہ کہ ترک الفعل اب اگر کوئی تشتری میں کھائے یا چپاتی کھائے جائز ہے مگر از راہ افخار نہ ہو میز پر کھانے میں چونکہ افخار و تشبہ کا قبح ہے وہ اس مستقل دلیل سے ممنوع ہوگا