ایک بی بی نے ایک صاحب کے ذریعہ سے اپنے خاوند کی تسخیر کے لئے تعویذ لینا چاہا حضرت والا نے فرمایا فقہاء نے فرمایا ہے کہ خاوند کے لئے تسخیر کا تعویذ کرانا حرام ہے گو اس فتوے کی عبارت مطلق ہے مگر قواعد سے اس کی شرح یہ ہے کہ حقوق دو طرح کے ہیں ایک تو وہ حقوق جوشرعا شوہر پرواجب ہیں اور ایک وہ ہیں جوشرعا واجب نہیں سوجو حقوق واجب نہیں ان میں کسی تعویذ و عمل کے ذریعہ سے اس کو مجبور کرنا یعنی تسخیر کی ایسی تدبیر جس سے وہ مغلوب اور پاگل ہوجائے اور اپنے مصالح کی کچھ خبر نہ رہے یہ غیر واجب پر مجبور کرنا ہے یہ حرام ہے ہاں اگر حقوق واجبہ میں کوتاہی کرتا تواس کے لیے مجبورکرنا بھی جائز ہے اور چونکہ ان عملیات میں اثر تابع ہوتا ہے قصد کے اس لئے عمل کے وقت غیر واجبہ حقوق حاصل ہونے کا قصد کرنا بھی گناہ ہے اور اثر کا تابع قصد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ عملیات بھی ایک قسم کا مسمریزم ہے جس سے کسی کے دل ودماغ پرقابوحاصل کیا جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ جزئیہ بے حد یا د رکھنے کے قابل ہے اگرکسی کو یہ شرح معلوم نہ وہوتو وہ فقہاء پر اعتراض کرے گا اس لئے کہ فقہاء کے اس جزئیہ میں اس تفصیل کی تصریح نہیں جیسے طب کی کتابوں میں بعضے نسخے ہیں جن میں خاص اس مقام پرقیود کی تصریح نہیں مگر قواعد سے وہ مقید ہیں پھر اس پرایک بزرگ کا قصہ بطور تفریع کے فرمایا کہ ان سے کسی شخص کو عداوت تھی اور ان کو بہت ستایا تھا ایک مرتبہ ان بزرگ نے اس کے لئے بددعا کی اس کے بعد وہ ہلاک ہوگیا ان بزرگ نے بطور استفتاء کے مجھے لکھا کہ ایسا واقع پیش آگیا ہے مجھکو یہ خوف ہے کہ کہیں قتل کا گناہ نہ ہوا ہو یہ ان کی دین داری کی بات تھی کہ خشیت کا غلبہ ہوا اگر آجکل کسی پیر سے ایسا ہوجاوے تو مریدوں میں بڑے فخر کے ساتھ بیٹھ کر اپنی کرامت بیان کرے کہ دیکھو ہماری بددعا سے ہلاک ہو گیا ہماری بددعاء خالی تھوڑا ہی جاسکتی ہے اور ایک بزرگ ہیں کہ بیچاروں کو اس سے خوف ہوا بس رسم پرستوں اورحق پرستوں میں یہ ہی تو فرق ہوتا ہے وہ ہروقت لرزاں ترساں رہتے ہیں اورکسی چیز پر بھی نازاں نہیں ہوتے مجھ پراس خط کا بڑا اثر ہوا اور ان کی بزرگی کا معتقد ہوگیا یہ سوال ایسا تھا کہ ساری عمر بھی مجھ سے کبھی ایسا سوال نہیں کیا گیا تھا کہ جوحادثہ مشابہ کرامت ہواوراس پریہ شبہ کیا جاوے میں نے جواب لکھا کہ آپ کا اندیشہ صحیح ہے مگر اس میں تفصیل ہے وہ یہ کہ یہ دیکھا جاوے کہ آپ صاحب تصرف ہیں یا نہیں اگر نہیں تو آپ کے ذمہ اہلاک کا تو گناہ نہیں ہوا باقی بددعا کا گناہ سو اگر شرعا ایسی بددعا جائز تھی تو اس کا بھی گناہ نہیں اور اگر جائز نہ تھی توصرف بددعا کا گناہ ہوا یہ تو اس وقت ہے جب آپ صاحب تصرف نہ ہوں اور اگر آپ صاحب تصرف ہیں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ بددعاء کے وقت آپ نے اپنے دل اور خیال کو اس کی ہلاکت کی طرف متوجہ کیا یا نہیں اگرنہیں کیا تو قتل کا گناہ نہ ہوگا ہاں بددعا ء کا گناہ بعض صورت میں ہوا جسیی ابھی اوپر مذکر ہوا اس میں توبہ استغفار کرنا چاہئے اورایک صورت یہ ہے کہ اگراس شخص کو اپنا صاحب تصرف نہ ہونا تجربہ سے معلوم ہے مثلا بارہا تصرف کا قصد کیا مگر کبھی کچھ نہیں ہوا تو اس صورت میں اگر ہلاکت کا خیال بھی کیا تب بھی قتل کا گناہ نہیں ہوا البتہ اس صورت میں اگروہ شرعا مستحق قتل نہ تھا تواس کی ہلاکت کی تمنا کا گناہ ہوگا اور تجربہ سے اپنا صاحب تصرف ہونا معلوم ہے اور پھر اس کا خیال بھی کیا اور وہ مستحق قتل نہیں تویہ شخص قاتل ہے کیونکہ تلوار سے قتل کرنا اور تصرف سے قتل کرنا دونوں سبب قتل ہونے میں برابر ہیں صرف فرق اتنا ہے کہ تلوار سے قتل عمد ہے جس میں قصاص ہے اور یہ شبہ عمد اس صورت میں دیت اورکفارہ دینا ہوگا وہ بزرگ اس مفصل جواب س بہت مسرور ہوئے پھر فرمایا کہ مسلمان کو ہرقدم پرعلم کی ضرورت ہے نہ معلوم یہ جاہل پیر کیسے بے خوف اور مستغنی ہیں کہ جائز نا جائز کی فکر ہی نہیں۔
21شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ
