( ملفوظ 362) خاوند کو مسخر کرنے والا تعویذ

ایک نو وارد شخص نے عرض کیا کہ مولوی جی میں بہت دور سے آیا ہوں ـ فرمایا کہ اس کہنے سے کیا غرض کیا بعید اور قریب سے آنے کے جدا جدا اثر ہوتے ہیں ـ مجھ پر تو نہیں ہوتے جو بات کہنا ہو وہ کہہ لو ـ عرض کیا کہ میں ایک بیوہ عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں کوئی تعویذ دیدو یا کوئی عمل پڑھنے کو بتلا دو فرمایا کہ میں اس قسم کے تعویذ گنڈے نہیں کیا کرتا ـ بخار یا درد سر وغیرہ کا تعویز دیدیتا ہوں ـ عرض کیا کہ میں تو بہت دور سے آیا ہوں ـ فرمایا کہ میں پہلی ہی اس کہنے سے منع کر چکا ہوں اور تم اسی کو دہراتے ہو ـ کہے جاؤ اس کہنے کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا ـ جب میں ایک کام کو جانتا ہی نہیں تو اس میں بعید یا قریب کیا تیر چلائیگا ـ عرض کیا کہ ہم زمندار لوگ ہیں ـ ایسے ہی گنوار ہوتے ہیں فرمایا اور ہم ایسے گنواروں کو اسی طرح درست کیا کرتے ہیں ـ تم بدتمیزی کیا کرو اور ہم درست کیا کریں ـ اپنے اپنے کام میں لگے رہو ـ اپنے اپنے کام کرنے پر ایک مثال یاد آئی ایک سنی نے ایک شیعی کو تبرا کہنے پر قتل کر دیا تھا ـ مقدمہ چلا شیعی کے بیرسٹر نے حکم سے کہا کہ ہمارے یہاں تبرا کہنا عبادت ہے ـ اور ہر شخص کو مذہبی آزادی ہونا چاہئے پھر قتل محض بیجا ہوا ـ سنی کے وکیل نے کہا کہ جو تبرا کہے ہمارے یہاں اس کو قتل کر دینا عبادت ہے ـ پس یہ بھی آزاد رہے وہ بھی آزاد اور ہے خارج کر دیجئے اس آزاد رہنے پر ایک مسئلہ یاد آگیا ـ فقہاء نے عورت کو خاوند کے مسخر کرنے کے لئے تعویذ کرانے کو حرام کہا ہے ـ اسکی وجہ بحمداللہ میری سمجھ میں آ گئی ـ جس ک احاصل یہ ہے کہ ایسا تعویذ مراد ہے جس کا یہ اثر ہو کہ وہ اپنے نفع نقصان کو نہ سمجھ سکے ـ اضطراری حالت پیدا ہو جائے اس کی آزادی مسلوب ہو جائے اور حقوق واجبہ میں تو سلب آزادی اور جبر کا مضائقہ نہیں مگر تبرع میں اکی ممانعت ہے ـ