ایک صاحب کی غلطی پرجوکسی خدمت کے متعلق صادر ہوئی تھی مواخزہ فرماتے ہوئےفرمایا کہ جب تک بے تکلفی نہ ہو کسی کی خدمت نہیں کرنا چاہئے ایسی خدمت سے مخدوم کو تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ خدمت کے شرائط میں سے ایک بے تکلفی بھی ہے لوگ خدمت میں کوئی شرط ہی نہیں سمجھتے حالانکہ نماز وروزہ جوقربات مقصود سے ہیں ان تک بھی شرائط ہیں مگر لوگ اس میں کچھ بھی شرائط نہیں سمجھتے اگر شرائط خود معلوم نہ ہوں آدمی کم از کم تحقیق تو کرلے کہ کیا شرائط ہیں اول تو فطرت سلیمہ کا مقتضایہ ہی ہے کہ خود ایسی شرائط جوکہ موٹی باتیں ہیں سمجھ میں آجائیں لیکن اگرکسی کی ایسی فطرت نہ ہو تویہ موٹی بات ہے کہ کسی سے معلوم ہی کرلے لیکن یہ باتیں ہوتی ہیں فکرسے اور فکرہے نہیں جوجی میں آیا کرلیا اس پران صاحب نے معافی کی درخواست کی فرمایا کہ معاف ہے مگر آئندہ ایسی باتوں کا خیال رہے بے ڈھنگا پن براہے ۔
