ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ بڑی مبارک حالت ہے کہ ہر حالت میں خوف رہے اندیشہ رہے یہ بڑی دولت ہے مگر قصدا خوف کا اس قدر مراقبہ نہیں کرنا چاہئے جو حد اعتدال سے بڑھ جائے اس میں اندیشہ ہے کہ کہیں مایوسی کی نوبت نہ آ جائے پھر اس سے تعطل تک نوبت آ جاتی ہے ہر چیز کے خواص جدا جدا ہیں اور ہر چیز کی ایک حد ہے اور حدود پر رہنے کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ کسی جاننے والے کے اپنے کو سپرد کر دے جو وہ کہے اس کا اتباع کرے بس اسی ہی میں خیر ہے ورنہ قدم قدم پر خطرہ ہے ۔
13 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
