( ملفوظ 639) خشک لوگ ، اہل معنی کو کیا جانیں ؟

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ خشک لوگ بے چارے اہل معنی کی کیا قدر جانیں اس راہ ہی سے نہیں گزرے کسی نے حضرت امام احمد حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا کہ بشرحافی ایک امی شخص ہیں آپ عالم ہو کر ان کے کیوں معتقد ہیں انہوں نے فرمایا ہم کتاب کے عالم ہیں وہ صاحب کتاب کے عالم ہیں اس سائل نے کہا میں ان سے کچھ مسئلے پوچھتا ہوں امام نے منع فرمایا مگر اس شخص نے نہ مانا اور دو مسئلے پوچھے ایک یہ کہ اگر نماز میں خطرات آنے سے سہو ہو جائے کیا حکم ہے فرمایا ایسے قلب کو سزا دینی چاہئے کہ خدا کے سامنے کھڑا ہو کر خطرات کو جگہ دیتا ہے جس سے سہو ہوتا ہے پھر دوسرا مسئلہ پوچھا کہ زکوۃ کا کیا حکم ہے کتنے مال میں کتنی زکوۃ ہماری یا تمہاری عرض کیا کہ حضرت دونوں فرما دیجئے فرمایا کہ تمہاری زکوۃ تو یہ ہے کہ جب نصاب کے مالک ہو جاؤ تو سال گزرنے پر چالیسواں حصہ دے دو اور ہماری زکوۃ یہ ہے کہ اتنا مال ہی نہ ہونے پائے جس کی زکوۃ دی جائے اور اگر اتفاقا ہو جائے تو وہ سب مال دے اور اسی قدر اور کما کرجرمانہ میں دے سائل اس قدر متاثر ہوا کہ سوال ہی پر نادم ہوا ۔