(ملفوظ 230)کسی مدرسہ کے مہتمم کے اختیارات محدود کرنا مضرتوں کا پیش خیمہ ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فلاں مدرسہ کے مہتمم کے اختیارات کو محدود کرنا بڑا ہی زبردست مضرتوں کا پیش کا خیمہ ہے جس کا نتیجہ آگے چل کر معلوم ہوگا میں نے ایک صاحب سے مدرسہ کے انتظام کے متعلق کہا تھا کہ اگر مجھ کو کامل اختیارات ہوتے تو میں اول کیا کرتا مہتمم صاحب کے ذریعہ سے واقعات معلوم کرتا اور بعد جو انتظام خود اپنی سمجھ میں آتا وہ کرتا اور اگر تردد رہتا تو سارے ہندوستان میں اشتہار دیکر علماء و عقلاء سے مشورہ لیتا اس صورت میں تمام لوگوں مدرسہ سے عشق ہوجاتا اوریہ سمجھتے کہ یہ جمہوریت صحابہ جیسی ہے کہ رائے سب کی اور حکومت ایک کی تدابیر تو سب ذہن میں مگر کوئی کرنے بھی دے اور اب تو کچھ ایسا انقلاب ہو ہے کہ پرانے لوگوں میں بھی جدید باتوں کا زہریلا اثرپیدا ہوگیا ہے نیچریت کا غلبہ ہے اس لئے کوئی مفید تحریک نہیں چلتی ۔