( ملفوظ 194)کسی مسلمان کے انتقال پر حالت خوف ہونا

فرمایا کہ ایک عجیب بات ہے بہت عرصہ تک میں اس کو سوچتا رہا کہ یہ کیا بات ہے وہ یہ کہ کسی بزرگ کے انتقال کو سنتا ہوں تو ان کے متعلق احتمال مواخزہ کا قلب پر استحضار ہوتا ہے اور اگر کسی گنہگار کے انتقال کو سنتا ہوں تو اس کی نسبت معاملہ رحمت کا قلب پر استحضار ہوتا ہے بڑے ہی سوچ میں تھا کہ یہ کیا قصہ ہے ایک روز سمجھ میں آیا کہ وہاں یعنی بزرگ کی نسبت رحمت کا استحضار تو پہلے ہی سے ہے دوسرے احتمال کا استحضار ہونا چاہئے تاکہ جمع بین الخوف والرجاء ہو اور یہاں یعنی گنہگار کی نسبت اعتدال مواخزہ کا استحضار پہلے ہی سے ہے احتمال رحمت کا استحضار ہونا چاہئے ـ