( ملفوظ240)خوش لباسی کی حدود

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اچھے کپڑے پہننا اور خوش لباس رہنا کیا شریعت میں نا پسندیدہ ہے ـ فرمایا کہ کون منع کرتا ہے ـ شریعت نے تنگی نہیں کی ـ اگر ریا یا و فخر کے لئے نہ ہو تو آسائش کی اجازت دی ہے بلکہ آسائش سے آ گے بڑھ کر آرائش کی بھی ممانعت نہیں ہے ـ اگر ریا اور فخر کا مرض نکل جائے تو اسکی اجازت ہے کہ راحت کا بلکہ تجمل کا بھی سامان کریں ـ ہاں یہ شرط ہے کہ جاہ کے لئے نہ کیا جائے ـ خوش لباسی پر یاد آیا یہاں پر ایک حافظ صاحب تھے ـ نابینا ان کا رنگ نہایت سیاہ تھا ـ جیسے الٹا توا ایک بار بہت سفید کپڑے پہنے جا رہے تھے ـ ماموں صاحب بڑے ظریف تھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ دیکھو رات کو بھی دن لگے ـ ہر شخص پر کپڑے زیب بھی تو نہیں دیتا ـ بلکہ بچارے کپڑے کی بھی درگت بن جاتی ہے ـ