(ملفوظ 363) کوتاہ نظری اور کوڑ مغزی کی حد :

ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایسی کوتاہ نظری اور ایسی کوڑمغزی کی بھی کوئی حد ہے پھر کہتے ہیں کہ ہم پرسختی کی جاتی ہے پہلے رنجیدہ کرتے ہیں پھر کچھ کہا جاتا ہے تو رنجیدہ ہوتے ہیں ایسوں سے تویہ ہی کہنا اسلم ہے کہ بس یہاں سے جاؤ ہم برے ہی سہی کون ان کوڑمغزوں کی چاپلوسی اورغلامی کرے غیرت کے بھی تو خلاف ہے میں تو اپنے متعلق کسی شبہ کو دور کرنا بھی غیرت کے خلاف سمجھتا ہوں جیسے بیٹی کے بارہ میں کوئی بیام والا کہے کہ سنا ہے کہ تمہاری بیٹی کافی ہے تو کیا وہ جواب میں یہ کہنے بیٹھے گا کہ کانی نہیں بہت حسین ہے بلکہ یہی کہے گا کہ وہ صرف کانی ہی نہیں اندھی ہے تم نہیں چاہتے تو کہیں اور جاؤ تو کیا طریق کی اتنی بھی وقعت نہ ہو دوسرا تو اعراض کرے اور ہم اس کوترغیب دیں لیکن جس چیز کی اصلاح فرض ہے وہاں تبلیغ ہرحال میں فرض ہے مگر تبلیغ کا رنگ اور ہے اس ترغیب کا رنگ اور جن میں وجدانی فرق ہے توایک کی نفی سے دوسرے کی نفی لازم نہیں آتی ۔
شوال المکرم 1350ھ مجلس خاس بوقت صبح یوم شنبہ