( ملفوظ 431)خوش اخلاقی اور اصول کی سختی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک شخص سرکاری سکول میں مدرس تھے ـ ان کو علم تو تھا نہیں کتابیں مختلف مذاہب کے دیکھنے کا شوق تھا ـ شیعوں کی قادیانیوں کی ، عیسائیوں کی انہوں نے مجھ کو لکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں انک لعلٰی خلق عظیم ارشاد ہے مگر آپ نے تلوار چلائی ـ کیا یہ اخلاق کے خلاف نہیں ـ میں نے لکھا کہ اسلام کی حفاظت کے واسطے تلوار چلائی گئی تاکہ کفار کا غلبہ اسلام پر نہ ہو ـ ان کے غلبہ سے اسلام کو بچانے کے لئے تلوار چلی تو فساد اخلاق کے انسداد کے لئے تلوار چلانا عین خوش اخلاقی ہے ـ ایک شبہ اخلاق کے متعلق اس کے مدمقابل جانب بھی ہو سکتا ہے یعنی اوپر سختی کو خلاف اخلاق سمجھا گیا اور آئندہ شبہ کا حاصل ایک خاص نرمی پر خلاف اخلاق ہونے کا شبہ ہو سکتا ہے ـ اس کی تقریر ایک خواب کے ضمن میں نقل کرتا ہوں میں نے ایک مرتبہ ملکہ وکٹوریہ کو خواب میں دیکھا اس نے ایک شبہ پیش کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مزاح فرماتے تھے جو شان نبوت سے بعید ہے ـ حاصل یہ کہ جو اخلاق وقار و متانت شان نبوت کے لئے زیبا ہیں ـ مزاح اس وقار کے خلاف ہے ـ میں نے کہا کہ ہر مزاح وقار کے خلاف نہیں بلکہ صرف وہ جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور یہاں بڑی مصلحت تھی وہ یہ کہ حضور کو خدا داد رعب عطا فرمایا گیا تھا ـ اس ہیئبت کی وجہ سے بعضے لوگ استفادہ علوم کا نہ کر سکتے ـ اس لئے حضور قصدا مزاح فرماتے تھے تاکہ دیکھنے والوں کو انبساط ہو کر موقع استفادہ کا حاصل ہو اور جو غرض بعثت سے ہے اس کی تکمیل ہو جائے اس جواب پر وہ بے حد مطمئن ہو گئی ـ اس حسن اخلاق پر اور اپنا واقعہ یاد آیا جب میں حیدرآباد دکن گیا تھا وہاں تقریبا چودہ روز قیام رہا ـ اس میں دارالضرب بھی دیکھنے گیا ـ وہاں کا مینجر ایک انگریز دکھلانے والا تھا ـ جب سب دیکھ چکے تو وہ انگریز رخصت کرنے کے لئے تھوڑی دور ہمرہ آیا ـ اس وقت میں نے اس سے کہا کہ آپ کے اخلاق سے بڑا جی خوش ہوا ـ آپ کے اخلاق تو مسلمانوں کے سے اخلاق ہیں ـ اس پر بہت خوش ہوا کہ مذہبی شخص نے میری تعریف کی اور ایک صاحب ارکان ریاست میں سے ہمراہ تھے ـ وہ دور آ کر کہنے لگا کہ آپ نے عجیب طرز سے تعریف کی کہ اس کا دل بھی خوش کر دیا اور اس کو گھٹا بھی دیا ـ میں نے کہ میں نے واقعہ بیان کیا کہ یہ اخلاق تمہارے گھر کی چیز نہیں ـ کبھی تم کو اس پر ناز ہو بلکہ یہ مسلمانوں کے گھر کی چیز ہے جو تم نے اختیار کر رکھی ہے ـ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو معلوم نہیں کہ ان کے گھر میں کیا کیا دولتیں مخزون ہیں اس نے دوسروں کے سامنے گدا گری کرتے ہیں افسوس ہوتا ہے ـ
10 صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ