( ملفوظ 233)خوش اخلاقی کا مطلب نرم بات کرنا نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل اخلاق نام ہے صرف نرمی سے بولنے کا چاہے کتنی ہی سخت بات ہو اور ایذا رساں ہو مگر لہجہ نرم ہو ہمارے ضلع کے ایک کلکٹر کی حکایت ہے کسی پر ناراض ہو کر بہت نرمی اور تہذیب سے حکم دیتا کہ آپکا کان پکڑ کر باہر نکال دو لہجہ نہایت نرمی کا ہوتا تھا تو بہت خلیق مشہور تھا کیا واہیات ہے بلکہ اس سے تو اور زیادہ تکلیف ہوتی ہے کہ بات نرم ہو مگر معاملہ سخت ہو کیونکہ نرم آدمی سے سختی کا صدور خلاف توقع ہونے کے سبب زیادہ رنج کا سبب ہوگا اسی سلسلہ میں فرمایا کہ نرم گفتگو کو جو اخلاق سمجھا جاتا ہے اسپر ایک قصہ یاد آیا ایک شخص نے انتقال کے وقت اپنے بیٹے کو جو کہ احمق تھا وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد جو عزیز و احباب آئیں ان سے نرم اور میٹھی بات کرنا بھاری لباس سے ملنا اونچی جگہ بٹھلانا بڑھیا کھانا کھلانا اس شخص کا انتقال ہو گیا ایک شخص ان کے دوستوں میں تھے دوست کے انتقال کی خبر پا کر تعزیت کو آئے انہوں نے آکر گھر میں اطلاع کرائی صاحبزادے نے نوکروں کو حکم دیا کہ مہمان کو مچلان پر بٹھلا دو گھر میں سے آئے تو بڑے بڑے قالین اور دریاں بدن پر لپیٹے ہوئے انہوں نے حسب رواج دریافت کیا کہ والد مرحوم بیمار ہوئے تھے جواب میں کہتے ہیں روٹی پھر کوئی بات پوچھی کہتے ہیں گڑ پھر کھانا لایا گیا مہمان نے کھا کر کہا کہ گوشت گلا نہیں تو بہت خفا ہوئے اور بولے کہ آپ کی خاطر پچاس روپیہ کا کتا کاٹ دیا اور اپکو پسند نہیں آیا مہمان نے کھانا تو چھوڑ دیا اور پریشان ہو کر پوچھا کیا حرکتیں ہیں کہا کہ جب والد صاحب کا انتقال ہو رہا تھا مجھکو چند وصیتیں کیں تھیں ایک تو یہ کہ میرے مرنے کے بعد اگر کوئی آئے تو بھاری لباس سے ملنا تو اس سے بھاری لباس میرے پاس اور کوئی نہ تھا اور ایک یہ کہ نرم اور میٹھی بات کرنا تو روٹی اور گڑ سے زیادہ نرم اور میٹھی چیز نہیں ایک یہ کہ اونچی جگہ بٹھلانا مچان سے زیادہ اونچی جگہ اور کوئی نہیں ایک یہ کہ بڑھیا کھانا کھلانا تو یہ پچاس روپیہ کا کتا تمام تھا جسکا گوشت آپکے سامنے ہے اس سے زیادہ قیمتی بڑھیا اور کوئی جانور بکرا وغیرہ میرے یہاں نہ تھا بے چارے لاحول پڑھکر بھاگے بس لوگ ایسے اخلاق کے طالب ہیں ان اخلاق میں سے ایک تواضع بھی ہے اسکا بھی یہی حشر کیا گیا میرے ابتدائی کتابوں کے استاد مولانا فتح محمد صاحب کا واقعہ ہے کہ ایک لڑکا تھا شادی وہ مولانا سے کریما پڑھتا تھا اسکا سبق تھا ولا گر تواضع کنی اختیار مولانا کی عادت تھی جب تک لڑکا پچھلا سبق نہ سنا لیتا آگے نہیں پڑھاتے تھے ـ مولانا نے پچھلا سبق سنتے ہوئے پوچھا تواضع کسکو کہتے ہیں کہا کہ تواضع کہتے ہیں کہا کہ تواضع یہی ہے کہ کسی کو حقہ دیدیا پان دیدیا مولانا نے خوب مرمت کی بھاگ نکلا پھر پھڑنے نہیں آیا اور جنگل کی طرف تشریف لے گئے وہی شادی ہل چلا رہا ہے مولانا نے دریافت فرمایا کہ ارے شادی تواضع بھی یاد ہے عرض کیا ہاں حضرت ساری عمر یاد رہیگی یہ ہل ہی تواضع نے پکڑوا دیا ہے تو آجکل تواضع اسی کو سمجھتے ہیں جس کو شادی نے بیان کیا تھا اور عوام تو عوام بھی اخلاق کی یہی حقیقت سمجھ رہے ہیں ـ