(ملفوظ 315 )لوگ رنج دے کرجاتے ہیں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ لوگ یہاں سے رنجیدہ ہوکر جاتے ہیں میں نے کہا یہ کیوں نہیں کہا کہ رنجن دے کرجاتے ہیں، گالیاں میں نہیں دیتا ، مارتا میں نہیں ، لیتا میں کچھ نہیں ، مجھ کو ستاتے ہیں ، ظلم کرتے ہیں کہ تعجب ہے کہ ظلم تو ظلم نہ ہواور اظہار مظلومیت ظلم ہو حق تعالیٰ فرماتے ہیں : لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم وکان اللہ سمیعا علیما ۔ ( اللہ تعالٰی بری بات زبان پرلانے کو پسند نہیں کرتے بجزمظلوم کے ۔ اور اللہ تعالٰی خوب سنتے ہیں خوب جانتے ہیں ) اس شکایت کے معنی تو یہ یوئے کہ سب کا غلام بن جائے وہ کچھ کریں کچھ نہ کہا جائے تو اصلاح کی بھرکیا صورت ہواور آنے ہی سے کیا حاصل ہوا ۔