(ملفوظ 185)لوگوں کی بے پرواہی کا سبب :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس پرقدرت توہے کہ میں نئے آنے والوں سے خود اہتمام کرکے پوچھ لیا کروں کہ کس کام کوآئے ہیں مگر بعض اوقات غیرت آتی ہے کہ صاحب حاجت تو نواب بنا بیٹھا رہے اور میں محتاجوں کی طرح ان سے التجا کروں اور لوگوں کی اس بے پرواہی کا سبب ان کے دلوں میں ملانوں کی بے وقعتی ہے بات توبظاہر چھوٹی سی ہے مگر منشاء اس کا برا ہے اور منکربات کے چھوٹی ہونے کی مثال ایسی ہے کوئی شخص چھوٹا سا پرانی جوتی کا ٹکڑا اٹھا کر کسی دوسرے شخص کے سرپر رکھ دے اور وہ اس پربگڑے تو اس کو کوئی کہے کہ یہ چھوٹی سی چیز ہے اس قدر کیوں بھگڑتے ہو وہ شخص جواب دے گا وہی ہماری طرف سے سمجھ لیا جائے اور میں پوچھتا ہوں کہ اچھا چھوٹی ہی بات سہی مگر آخر پیدا ہی کیوں ہوئی اور حق ہی کیا ہے ان بیہودوں کو مسکینوں غریبوں ملانوں کو حقیر سمجھنے کا ۔