ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ معاصی سے تو نفرت ہونا چاہیئے مگر عاصی سے نفرت نہ ہونا چاہئے حاصل یہ کہ فعل سے نفرت ہو فاعل سے نفرت نہ ہو ـ جیسے حسین اپنے منہ کو کالک مل لے تو کالک کو تو برا سمجھیں گے مگر اس کو گوارا ہی سمجھیں گے ـ اسی طرح مومن میں برائی عارضی ہے اس لئے اس کو حقیر نہ سمجھیں ـ ہاں برے فعل کو برا سمجھیں ـ
