ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اکثر اہل مدارس ترفع کا بڑا مرض ہو گیا ہے مگر یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا خصوص مدارس دینیہ تو اگر سادہ ہی وضع میں رہیں یہ ہی ان کی خوبی ہے ان کی رفتار سے گفتار سے نشت و برخاست سے ان کے لباس سے اسلامی شان کی جھلک معلوم ہورہی ہے ـ یہی خوبی کی بات ہے ـ ایک مرتبہ ضلع کے انگریز کلکٹر نے کہلا کر بھیجا کہ ہم مدرسہ کا معائنہ کریں گے ہم نے کہا کر لو بھائی یہاں تو غریب لوگ رہتے ہیں اور میں ایک ضرورت سے ایک قصبہ قریب ہے ـ وہاں چلا گیا اور یہاں کے لوگوں کو سمجھا گیا کہ جو بات پوچھے بتلا دی جائے مگر ترفع کی کوئی بات نہ کی جائے مثلا اگر وہ سوال کرے کہ یہ مدرسہ ہے تو کہنا کہ مدرسہ وغیرہ کچھ نہیں ـ ایک چھوٹا سا مکتب ہے ـ اگر سوال کرے آمدنی کس قدر ہے تو کہنا توکل پر معاملہ ہے ـ کوئی آمدنی مستقل نہیں ـ کام بھی مختصر ـ غرض اسی طرح سب باتیں سمجھا گیا تھا اور واقعہ بھی یہی ہے یہاں پر تو غریبوں کا مجمع رہتا ہے ـ امیر ہونا کون فخر کی بات ہے ـ فخر کی بات تو یہ ہے کہ طالب صاحب صلاح ہو صاحب تقوی ہو صاحب استقلال ہو مگر کلکٹر کا آنا نہیں ہوا ایک اور مرتبہ بھی یہاں قصبہ میں کلکٹر آیا تھا ـ چند مکانات کے فوٹو لئے یہاں کا یعنی خانقاہ کا بھی فوٹو لینے کا ارادہ تھا مگر اس قصبہ میں اس قدر دیر لگ گئی کہ یہاں نہیں آ سکا ـ پھر ہم کو موالاتی کہا جاتا ہے حالانکہ خود رات دن ان سے خلا ملا رکھیں مصافحہ اور گفتگو کریں اور اپنے کو ترک موالات کا حامی رکھیں ـ عجیب فلسفہ ہے ـ نراسفہ ہے ـ
