ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ قرآن شریف کے ترجمہ کے ساتھ توریت انجیل بھی پڑہایا کرتے تھے مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب کے زمانہ میں اسکے ثمرہ کا ظہور ہوا واقعہ یہ ہے کہ ایک پادری آیا بعض اہل بدعت کے بہکانے سے اس نے حضرت شاہ اسحاق صاحب کا نام لے کر مناظرہ کا اعلان کیا بہکانے کی وجہ یہ تھی کہ شاہ صاحب سے عداوت تھی جانتے تھے کہ شاہ صاحب کو اس سے کیا مناسبت ـ ہار جائیں گے ذلت ہوگی نفسانیت بھی کیا بری چیز ہے یہ نہ سمجھا کہ اگر ایسا ہوا تو نعوذ باللہ اسلام کی ذلت ہے شاگردوں نے یہ دیکھ کر کہ مولانا کو کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا یہ عرض کیا کہ حضرت ہمکو مناظرہ کی اجازت دیجاوے فرمایا کہ وہ میرا نام لے کر اعلان کرے اور میں خاموش بیٹھا رہوں مجھکو غیرت آتی ہے اب شاگردوں میں بڑی کھلبلی پڑی مگر یہ کون کہہ سکتا تھا کہ آپ کوعسائیوں کے مناظرہ سے مناسبت نہیں کیونکہ ایسے مناظروں میں عادۃ الزامی جوابوں کی ضرورت ہوتی ہے قلعہ میں مناظرہ ٹھرایا عذر کے زمانہ سے قبل کا واقعہ ہے حضرت شاہ صاحب مناظرہ کے لئے تشریف لے گئے مناظرہ ہوا حضرت شاہ صاحب نے توریت و انجیل کے حوالہ سے جواب دینا شروع کئے پادری کو شکست ہوئی لوگوں کو بڑا تعجب ہوا لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپکو ان جوابوں کی کیا خبر فرمایا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ قرآن شریف کے ترجمہ کیساتھ توریت اور انجیل بھی پڑھایا کرتے تھے یہ قصہ بیان کر کے فرمایا کہ ضرورت کی بنا پر میری رائے ہے کہ مدارس میں تین چیزوں کی تعلیم کا اور اضافہ کر دیا جائے ایک ریلوے قانون کا دوسرے ڈاکخانہ کے قواعد کا تیسری فوجداری کی دفعات کا تاکہ جرم کی حقیقت سے واقف ہو جائیں بعض مرتبہ جرم کی حقیقت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے جرم کا ارتکاب ہو جاتا ہے ـ
