(ملفوظ 175)مدرسہ کی مادی ترقی کی مثال :

ایک سلسلہ گفتگو میں ایک مدرسہ کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ جب کوئی مریض اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اس کی صحت اورحیات سے مایوسی ہوجائے تو اس کو خدا کے سپرد کردیا جاتا ہے اور پرہیز توڑوادیا جاتا ہے تویہ مدرسہ اسی درجہ تک پہنچ گیاہے اس کی روح ختم ہو چکی ہے گومادی ترقی بھی ہو اسی مضمون کے متعلق میں نے فلاں بزرگ مہتمم مرحوم سے کہا تھا کہ اگر مدرسہ ان مفاسد کے ساتھ باقی بھی رہا اور مادی ترقی بھی کی اور ورح باقی نہ رہی تو اس کی ترقی اس حالت میں ایسی ترقی ہوگی جیسے مرنے کے بعد لاش پھول جاتی ہے مگر تھوڑے ہی دنوں میں پھٹ بھی جاتی ہے اس وقت تماشا ہوگا کہ محلہ بھرکو کیا بلکہ بستی تک کو اوربستی سے بھی آگے بڑھ کر قرب وجوار کو بدبو سے خراب کرے گی ہاں اگرروح باقی ہو اور ساتھ ہی مریض کا جسم کمزور اور لاغر ہوگیا ہو تو اس کا علاج ہونا بھی ممکن اور ایسا فربہ اور موٹا محمود ہے نہ کہ آماس کی فربہی ۔