ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں ایک زمانہ تک اس خیال میں رہا کہ معاملات میں سب میں مساوات ہونا چاہئے مگر حدیثوں میں غور کرنے سے معلوم ہوا کہ خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی مساوات نہ فرماتے تھے ۔
حدیث شریف میں آیا ہے کہ خود مجلس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرات شیخین کے ساتھ جو معاملہ لطف و عنایات کا فرماتے تھے دوسروں کے ساتھ نہ فرماتے تھے ۔
کما فی جمع الفوائد عن الترمذی عن انس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یخرج علی اصحابہ من المھاجرین الانصاری لایرفع طرفہ اولا الا الیٰ ابی بکر و عمر کانا ینظر ان الیہ وینظر الیھما ویتبسمان الیہ ویتبسم الیہما حاصۃ والیٰ سائراصحابہ عامۃ
( حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی طرف تشریف لاتے تھے جن میں مہاجر بھی ہوتے تھے اور انصار بھی ۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اول حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر ہی کی طرف نظر فرماتے تھے اور وہ دونوں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر رکھتے تھے اور حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیکھتے رہے تھے اور وہ دونوں تبسم کرتے رہتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تبسم فرماتے رہتے تھے یہ سب حالت خاص طور پر ان دونوں کے ساتھ ہوتی تھی اور باقی صحابہ کے ساتھ عام طور پر ہوتی تھی )
جب حضور نے اس کا اہتمام نہیں فرمایا تو ہم کیا چیز ہیں ۔
