( ملفوظ 426 ) مقصود معین نہ ہونے کی مثال

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان کیفیات کے متعلق جو میں نے بیان کیا تھا کہ اگر مقصود کی معین ہوں تو محمود ہیں مگر مقصود نہیں ۔
اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک بہلی ہے اس کو دو بیل لئے جا رہے ہیں مگر آہستہ آہستہ ایک اور تیسرا قوی بیل جوڑ دیا تو اب بہلی زیادہ زور سے چلنے لگی لیکن یہ تیسرا بیل نہ ہوتا تب بھی مسافت تو طے ہو رہی تھی اس تیسرے بیل کے نہ ہونے پر یاس نہ ہونا چاہئے کہ ہائے اب کیسے منزل مقصود پر پہنچیں گے انشاء اللہ پہنچ جاؤ گے گو وقت کچھ زیادہ صرف ہو ۔ اس سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ ان کیفیات کا درجہ اس سے زیادہ نہیں اب اگر کوئی بیلوں ہی کو مقصود سمجھے یا اپنی شان شوکت تین ہی بیلوں پر سمجھتا ہو تو اس کا کسی کے پاس کیا علاج ہے ۔