ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مقصود تو اصلاح نفس ہے اب اسکی تعبیر چاہے جن الفاط میں کرلی جاوے طریق کا مقصود اورحاصل صرف یہی ہے اوراسی اصلاح کے طرق اور تدابیر کو اصطلاح میں سلوک کہتے ہیں اوریہ طریق بالتخصیص واجب اور فرض نہیں اصلاح فرض ہے خواہ دوسری تدابیر سے ہو اصل مقصود اصلاح نفس ہے اس پربھی اگر معترض اعتراض کرے تو اس بدفہمی کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں آخرطبیب جسمانی بھی تو تدابیر کو اختیار کرتا ہے اس کوکوئی بدعت نہیں کہتا تواس میں اور اس میں کیا فرق ہے البتہ خاص تدابیر کو کوئی قربت مقصود سمجھ جائے تووہ ضرور قابل نکیرہے لیکن کسی محقق کا یہ مسلک نہیں ۔
