(ملفوظ 30 )مرض جاہ طلبی و مال طلبی :

فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے دعا کے لیے لکھا ہے کہ ڈسڑکٹ بورڈ کے محکمہ کا چیئرمین کلکڑ ہوجائے جیسے پہلے تھا اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ کوئی انتظام نہیں سخت پریشانی ہے
تنخواہ وقت پر تو کیا کئ کئ ماہ تک نہیں ملتی اس پر فرمایا کہ یہ لوگ حکومت کے اہل ہی نہیں سوراج سو راج گاتے پھرتے ہیں اور اس سے بھی اکثر کا مقصود حکومت نہیں بلکہ روپیہ گھسیٹنا مقصود ہے چنانچہ کتنی ہی بڑی معقول تنخواہ کی جگہ ہو اور رشوت نہ ہو اس کو قبول نہیں کرتے ہاں تنخواہ چاہے کم ہو مگر رشوت ملتی ہو اس کو قبول کرلیں گے چرتھا ول ایک قصبہ ہے وہاں پر ایک تقریب میں عورتوں کا مجمع تھا ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ تمہارے میاں کی کیا تنخواہ ہے تنخواہ تھی کم بتلاتے ہوئے شرم معلوم ہوئی جواب میں کہتی ہے کہ تنخواہ تو تھوڑی ہے مگر ماشاءاللہ بالائی آمدنی بہت ہے حرام کمائی پر ماشاءاللہ یہ حالت ہورہی ہے جاہ طلبی اور مال طلبی کا مرض عام ہورہا ہے حرام کھانے پر کمر باندھ رکھی ہے یہ کیا حکومت کرسکتے ہیں اور کیا ایسوں کو حکومت مل سکتی ہے جن سے گھروں کا انتظام نہیں ہوسکتا ملک کا کیا خاک انتظام کریں گے ایسے ہی خود غرض جمع ہورہے ہیں اور ملک کو تباہ اور برباد کرنے پر کمر بستہ ہیں کسی نے خوب کہا ہے
گربہ میروسگ وزیرو موش راد یوان کنندایں چنیں ارکان دولت ملک راویران کنند
ان میں بعض مخلصیں بھی ہیں مگر بہت کم ۔